یونان کشتی حادثہ: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بنڈلی گاؤں میں دم توڑتی امیدیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی میں کھوئی رٹہ کا علاقہ ہے جسے وادی بناہ بھی کہا جاتا ہے۔
مظفرآباد، 20جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے لائن آف کنٹرول پر واقع بنڈلی گاؤں کے بیچوں بیچ چھوٹی چھوٹی پگڈنڈی نما سڑکوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نقل و حرکت بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب رکے بغیر آگے بڑھ جاتے ہیں، گویا ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے ہوں۔گھروں کے ارد گرد ہلچل بڑھتی جا رہی ہے اور کسی گھر کے پاس سے گزرنے پر خواتین کی آہوں اور سسکیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی میں کھوئی رٹہ کا علاقہ ہے جسے وادی بناہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس گاؤں سے غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے کا رجحان کافی پرانا ہے، مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس گاؤں کا کوئی شخص سمندری حادثے کا شکار ہوا ہو۔
بنڈلی وہی گاؤں ہے جہاں سے گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران لگ بھگ 30 افراد غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے لیے مختلف طریقوں سے لیبیا پہنچے اور ان میں سے زیادہ تر اس کشتی پر سوار تھے جو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لیبیا سے اٹلی جاتے ہوئے یونان کے شہر پائلس کے قریب بحیرہ روم میں ڈوب گئی تھی۔اندازہ ہے کہ اس کشتی میں 400 سے زیادہ افراد سوار تھے جن میں ایک بڑی تعداد کم عمر بچوں کی بھی تھی۔ کشتی کے اس حادثے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 81 ہو گئی ہے جب کہ 104 لوگوں کو یونانی کوسٹ گارڈ نے زندہ بچا لیا تھا۔
متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں جن میں سے کسی کے بھی زندہ بچنے کے امکانات اب کم ہیں۔کشتی پر سوار لوگوں کی اصل تعداد اور ان کی شہریت کے بارے ابھی تک درست معلومات موجود نہیں تاہم اندازہ ہے کہ اس میں سوار لوگوں میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان، شام، مصر اور افغانستان سے ہے۔اس حادثے میں زندہ بچنے والے 104 لوگوں میں سے 12 پاکستانی شہری ہیں جن میں بنڈلی گاؤں کے دوو نوجوان 21 سالہ حسیب الرحمان اور 23 سالہ عدنان بشیر بھی شامل ہیں۔کشتی حادثے کے بعد اپنے رشتہ داروں کی تلاش میں برطانیہ سے یونان پہنچنے والے کشمیری نژاد برطانوی شہری راجہ فریاد کی ان نوجوانوں کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کے نتیجے میں یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ڈوبنے والی کشتی پر سوارپاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے نوجوانوں کی تعداد 40 سے 50 کے درمیان ہو سکتی ہے اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق اسی گاؤں سے ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کے پاس ان لوگوں کے حتمی اعداد و شمار نہیں تاہم میرپور ڈویژن کے کمشنر چودھری شوکت علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میرپور ڈویژن کے تین اضلاع سے اس حادثے کا شکار ہونے والوں کی تعدا 40 سے 50 کے درمیان ہو سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر کوٹلی نے ابتدائی طور پر 27 ایسے افراد کی فہرست جاری کی ہے جو ممکنہ طور پر اس کشتی پر سوار تھے۔ انتظامیہ کے مطابق دیگر دو اضلاع سے بھی گزشتہ تین چار ماہ کے دوران یورپ جانے کے لیے گھر سے نکلنے والوں کے اعداد و شمار مرتب کیے جا رہے ہیں اور یہ پتہ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان میں سے کون کون پہنچنے میں کامیاب ہوا یا ابھی راستے میں ہے۔جن لوگوں کی لاشیں یونان میں موجود ہیں ان کی شناخت کا مرحلہ بھی ابھی باقی ہے۔
ان کی شناخت کے لیے لاپتا نوجوانوں کے لواحقین کی ڈی این اے رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔ ایتھنز میں پاکستانی سفارت خانے نے لاپتہ شہریوں کے لواحقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی رپورٹس ارسال کریں تاکہ شناخت کا عمل مکمل ہو۔پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کے جنوبی علاقوں سے محنت مزدوری کے لیے یورپ جانے کی ابتداء ساٹھ کی دہائی میں اس وقت ہوئی تھی جب منگلا ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں پرانا میرپور شہر ڈوب گیا تھا اور سینکڑوں خاندان بحری جہازوں کے ذریعے میرپور سے برطانیہ منتقل ہوئے اور وہیں آباد ہو گئے۔اس وقت سے میرپور، بھمبور اور کوٹلی کے اضلاع سے برطانیہ اور یورپ جانے کا رجحان بڑھتا ہی جا رہا ہے مگر گزشتہ چند سال سے ویزوں کے حصول میں مشکلات کے بعد غیر قانونی راستوں سے یورپ اور برطانیہ میں داخل ہونے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔



