بین الاقوامی خبریںسرورق
اسرائیل کی لبنان کے تاریخی شہر بعلبک پر بمباری
یہ لڑائی جو غزہ میں جنگ کے ساتھ ساتھ شروع ہوئی تھی
اسرائیل کی لبنان کے تاریخی شہر بعلبک پر بمباری
بیروت ،31اکتوبر (ایجنسیز )
حزب اللہ نے مسلسل تیسرے دن، جنوبی قصبے خیام میں اور اس کے ارد گرد اسرائیلی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی کی اطلاع دی ہے۔لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے فوجیوں کے لبنان میں داخل ہونے کی اطلاع ہے۔سکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نیبدھ کے روز انخلا کا ایک حکم جاری کرنیکے بعد،لبنان کے مشرقی شہر بعلبیک پر شدید فضائی حملے کیے، جو اپنے رومن گرجا گھروں اور خوبصورت دیہاتوں کے لیے مشہور ہے۔
انتباہ جاری ہونے کے بعد بیشتر شیعہ مسلمانوں اور ان بہت سے لوگوں سمیت جو شہر کے دوسرے علاقوں میں پناہ لئے ہوئے تھے، ہزاروں لبنانی فرار ہو گئے۔لبنانی شہری دفاع کے علاقائی سربراہ بلال رعد نے کہا کہ بڑی تعداد میں رضاکار فورس نے میگا فونز کے ذریعے رہائشیوں کو اس کے بعد وہاں سے نکل جانے کے لئے کہاجب انہیں کچھ ایسے اشخاص کی فون کالز موصول ہوئیں جو بتا رہے تھے کہ ان کا تعلق اسرائیلی فوج سے ہے۔انہوں نے بمباری سے پہلے کہاکہ لوگ دھکم پیل کر رہے ہیں، پورا شہر افرا تفری کا شکار ہے اور یہ جاننے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ کہاں جائے، وہاں بہت بڑا ٹریفک جام ہے۔
انہوں نے کہا لوگ جن علاقوں کی طرف بھاگ رہے ہیں ان میں سے کچھ پہلے ہی بے گھر لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں۔بعلبک کے شمال مغرب میں عیسائی اکثریتی علاقے، دیر الاحمر کی نمائندگی کرنے والے ایک قانون ساز، انٹنی حبچی نے کہا کہ 10 ہزار سے زیادہ لوگ پہلے ہی گھروں، اسکولوں اور گرجا گھروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔قرارداد 1701 اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گزشتہ سال کی لڑائی کے خاتمے کے لیے بات چیت کی بنیاد رہی ہے۔ یہ لڑائی جو غزہ میں جنگ کے ساتھ ساتھ شروع ہوئی تھی گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ڈرامائی طور پر بڑھ گئی ہے۔
بیروت میں امریکی سفارتخانے کی ترجمان سما حبیب سے جب رپورٹ کی گئی تجویز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہاکہ ہم اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک ایسی سفارتی قرارداد چاہتے ہیں جو 1701 کو مکمل طور پر نافذ کرے اور سرحد کے دونوں طرف اسرائیلی اور لبنانی شہریوں کو ان کے گھروں کو واپس بھیج سکے۔امریکی ایلچی ہوچسٹین نے اس ماہ کے اوائل میں بیروت میں صحافیوں کو بتایا کہ نفاذ کے لیے بہتر طریقوں کی ضرورت ہے کیونکہ نہ تو اسرائیل اور نہ ہی لبنان نے اس قرارداد پر مکمل عمل درآمد کیا ہے۔
سفارت کار نے کہا، تاہم دونوں نے خبردار کیا ہے کہ ابھی بھی یہ ڈیل ختم ہو سکتی ہے۔جنگ بندی کے لیے ایک سخت دباؤ موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد ابھی تک بہت مشکل ہے۔اسرائیل کے چینل 12 ٹیلی وژن نے رپورٹ دی کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی قرار داد 1701 کے ایک زیادہ مضبوط ورژن کی کوشش کررہا ہے، تاکہ اسرائیل کو اس صورت میں مداخلت کی اجازت ہو اگر وہ یہ محسوس کرے کہ اس کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے۔
لبنانی عہدے داروں نے کہا ہے کہ، لبنان کو ابھی تک اس تجویز کے بارے میں باضابطہ طور پر بریف نہیں کیا گیا ہے اور وہ اس کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔جنگ بندی کی تازہ ترین کوششیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب لبنان میں حزب اللہ کیخلاف اسرائیل کی کارروائی میں مسلسل توسیع ہو رہی ہے۔



