موسمِ گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ٹھنڈے اور تازگی بخش مشروبات کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ مشروبات نہ صرف پیاس بجھاتے ہیں بلکہ جسم کو گرمی کی شدت سے بچاتے ہوئے فرحت، سکون اور توانائی بھی فراہم کرتے ہیں۔ گرمی کے دنوں میں پسینے کے ذریعے جسم سے نمکیات اور گلوکوز کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس کی تلافی کے لیے مختلف مشروبات کا استعمال نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موسم میں طرح طرح کے مشروبات استعمال کیے جاتے ہیں جو ذائقے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہوتے ہیں۔
موسم گرما کے مشروبات میں لیموں پانی، فالسے کا شربت، آم کا شربت، کیلے کا شربت، چیکو کا شربت، کیری کا شربت، املی اور آلو بخارے کا شربت، بادام کا شربت، ٹھنڈائی، ستّو کا شربت، لسّی، کچی لسّی، وغیرہ شامل ہیں۔ ان مشروبات کے اجتماعی اور انفرادی فوائد بھی ان گنت ہیں۔
مشروبات کے عمومی فوائد
گرمیوں کے یہ مشروبات جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتے ہیں، درجۂ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں اور تھکن کو کم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ پسینے کے ذریعے خارج ہونے والے ضروری نمکیات اور گلوکوز کی کمی کو بھی پورا کرتے ہیں۔ مختلف اجزاء پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ہر مشروب اپنی الگ غذائی اہمیت رکھتا ہے، جیسے پھلوں والے مشروبات وٹامنز سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ دودھ یا دہی والے مشروبات توانائی اور ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں۔
اس مضمون میں ہم موسمِ گرما کے ان پانچ خوش ذائقہ اور تسکین بخش مشروبات کا ذکر کریں گے، جو صحت بخش بھی ہیں، فرحت بخش بھی، کم خرچ بھی ہیں اور جن کو گھر پر بنانا بھی آسان ہے۔
لیموں پانی
سب سے پہلے ہم سب سے سادہ اور کم قیمت مشروب کا ذکر کریں گے۔ جسے بنانا بھی بہت آسان ہے۔ یہ مشروب اگرچہ سستا ہے لیکن طبی فوائد کے اعتبار سے لاجواب ہے۔ یعنی لیموں پانی یا نیبو کا شربت جسے سکنجبین بھی کہتے ہیں۔یہ موسم گرما کی جان ہے۔ یعنی کم و بیش تمام لوگ ہی موسمِ گرما میں نیبو یا لیموں کے دل بہار شربت سے ضرورلطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ گرمی کی شدت کو کم کرتا ہے اور جسم میں پسینے کی صورت میں کم ہونے والی نمکیات کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ یہ طبیعت میں تازگی اور فرحت پیدا کرتا ہے۔اور انتہائی صحت بخش مشروب ہے۔ اس میں شامل وٹامن سی اینٹی آکسایڈینٹ خصوصیات رکھتاہے۔ یہ جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج میں بھی مددگار ہے۔
لیموں پانی بنانے کا طریقہ
اجزاء: لیموں تین عدد تازہ رسدار، شکر دو یا تین ٹیبل اسپون، پانی آدھا گلاس، ٹھنڈا پانی ڈیڑھ گلاس، برف باریک کٹی ہوئی یا آئس کیوب، ایک جگ میں آدھا گلاس نارمل پانی ڈال کر اس میں شکر کو حل کرلیں۔ پھر اس میں اچھی طرح لیموں نچوڑ دیں کہ لیموں کے رس دار ریشے بھی پانی میں شامل ہوجائیں۔ اب اس میں ایک یا ڈیڑھ گلاس ٹھنڈا پانی شامل کردیں۔ اس کو زیادہ مزیدار کرنے کیلئے ایک چٹکی کالا نمک اور سفید نمک ، پسی ہوئی کالی مرچ ایک چٹکی اور پسا ہوا زیرہ حسبِ ذائقہ بھی شامل کردیں تو بہت مزیدار اور فرحت بخش دو گلاس شربت تیار ہوگا۔ اب برف کی کیوبز یا کٹی ہوئی برف ڈال کر ٹھنڈا ٹھنڈا نوش فرمائیں۔
لسّی
لسّی جیسا مشروب بھی موسمِ گرما کی جان ہے۔ موسمِ گرما کے آتے ہی بازاروں میں، ہوٹلوں اور مشروبات کی دکانوں میں لسّی کے شوقین افراد لسّی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن لسّی گھر میں بھی بہت آسانی سے بنائی جاسکتی ہے۔ اور بازار کی لسّی کے بہ نسبت سستی اور زیادہ صحت بخش بھی بنتی ہے۔ کیوں کہ دہی بھی گرمی کی شدت کو کم کرتا ہے اور جسم میں نمکیات کی کمی کو دور کرتا ہے۔
لسّی بنانے کا طریقہ
اجزاء: دہی ایک پاؤ، دودھ ایک پاؤ، پانی آدھا کپ، شکر تین ٹیبل اسپون یا حسبِ ذائقہ، نمک تھوڑا سا ایک چٹکی یا حسبِ ذائقہ، دہی کی بالائی، دو ٹیبل اسپون (اگر پسند ہوتو)دہی میں شکر اور پانی شامل کر کے گرائنڈر یا دہی بلونی سے اچھی طرح بھینٹ لیں۔ اب اس میں دودھ اور نمک شامل کر کے مزید پھینٹیں۔ پھر اس میں کٹی ہوئی برف یا برف کی کیوبز ڈال کر چند منٹ اور پھینٹیں۔ اگر پسند ہو تو اس میں دہی کی بالائی شامل کر دیں ورنہ بغیر دہی کی بالائی کے بھی ٹھنڈی، میٹھی لسّی تیار ہے۔
ستو کا شربت
موسمِ گرما کا ایک مشروب ستو ہے، ستو ایک قسم کا جو، گندم، چنا، مکئی وغیرہ سے خاص ترکیب سے تیار شدہ آٹا ہوتا ہے۔ ستّو کا مشروب تیار کرنا بھی بہت آسان ہے۔ ستو کئی قسم کے غذئی اجزاء اور فائبر کی وافر مقدار سے بھرپور ہوتا ہے۔ ستو کو پانی اور شکر ملا کر مشروب کی شکل میں استعمال کیاجاتا ہے۔ یہ زود ہضم ہے۔ یہ معدے کی تیزابیت کو ختم کرتا ہے۔ جسم کو توانائی بہم پہنچاتا ہے۔ یہ پیاس بجھاتا اور بھوک مٹاتا ہے۔ جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے۔ غرض ستو کے بے شمار فائدے ہیں۔ یہ فائبر، اور وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے۔
تخم بالنگا کا شربت
موسم گرما کے مشروبات میں تخم بالنگا کا شربت بھی گرمیوں کی جان ہے۔ کیوں کہ یہ گرمی کی شدت کو کم کرنے کی خصوصیات کا حامل ہے۔ جسم کو ٹھنڈک اور سکون کا احساس بخشتا ہے کیوں کہ یہ خاص قسم کے پودوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔
اس لئے یہ نباتاتی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے، اس لئے جسم کے اندر کی حدّت کو دور کرتا ہے۔ یہ نباتاتی پروٹینز، فائبر، کیلشیم سے بھر پور ہوتا ہے۔ شربت کے علاوہ مختلف طریقوں سے بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے، دودھ، آئس کریم، فالودہ وغیرہ ہیں۔ تخم بالنگا کو پانی میں بھگو کر استعمال کیا جاتا ہے۔ پانی میں بھیگنے کے بعد یہ لیس دار ہوجاتا ہے۔ یہ انتہائی سستا ہوتا ہے اور بازار سے آسانی سے دستیاب ہوجاتا ہے۔ گرمی کے موسم میں تخم بالنگا کا مشروب ضرور استعمال کرنا چاہئے کیوںکہ یہ جسم میں پانی کی کمی کو دور کرتا ہے، جسم کے درجہ حرارت کو معتدل کرتا ہے اور بے شمار طبی فوائد کا حامل ہے۔ اسے لیموں کے شربت سنکجبین اور دودھ وغیرہ کے ساتھ شامل کر کے بھی مشروب تیار کیا جا سکتا ہے۔
فالسے کا شربت
موسم گرما کے مشروبات میں ایک مشروب فالسے کا شربت بھی ہے۔ جو زیادہ مہنگا بھی نہیں لیکن اس کے فوائد بے شمار ہیں ۔ موسم گرما میں فالسے قدرت کی طرف سے تحفہ ہیں۔فالسے اگر چہ ذائقے میں ترش یعنی کھٹے ہوتے ہیں اور ان کوان کی ترشی کی وجہ سے مناسب مقدار میں کھانا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ان کو شکر اورتھوڑا سا کالا نمک ملا کر ان کا کچومر بنا کر کھایا جاسکتا ہے کیوں کہ شکر ان کی ترشی کو کافی حد تک کم کردیتی ہے اور ذائقہ دار بھی بنا دیتی ہے۔ اور کالا نمک ان کو ذائقے دار اور رسیلہ کردیتا ہے۔ لیکن فالسے کا شربت بنا کر استعمال کرنا زیادہ آسان اور زیادہ سودمند ہے۔ فالسے میں شامل منرلز، وٹامنز، آئرن اور معدنیات انسانی صحت کے لئے بہت مفید ہیں۔ یہ خون صاف کرتا ہے اور بلڈ پریشر میں مفید اور دل کو طاقت فراہم کرتا ہے۔
فالسے کا شربت بنانے کا طریقہ
اجزاء: فالسے ایک پاؤ، شکر آدھا پاؤ یا حسبِ ذائقہ، کالا نمک آدھا ٹی اسپون یا حسب ذائقہ، پانی ایک گلاس یا حسبِ ضرورت، فالسوں کو اچھی طرح دو تین بار پانی سے دھو لیں۔ اب فالسے، شکر اور پانی بلینڈر میں ڈال کر دو تین سیکنڈ کے لئے چند بار بلینڈر روک روک کر فالسوں کو بلینڈ کریں کہ فالسوں سے گودا الگ ہو جائے لیکن فالسوں کی گٹھلیاں چورا نہ ہوں۔ اس کے بعد اس کو چھلنی میں چھان لیں کہ گٹھلیاں اور گودا الگ الگ ہوجائیں۔ اب اس گودے میں حسب ضرورت پانی اور کالا نمک شامل کر کے اچھی طرح حل کریں اور برف کی ڈلیاں بھی شامل کردیں۔



