
ابھیشیک بنرجی کو سپریم کورٹ سے راحت، آنکھوں کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت
سپریم کورٹ نے ستمبر میں تین ہفتوں کے بیرون ملک سفر کی اجازت دی۔
نئی دہلی، 10 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز):ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کو آنکھوں کے علاج کے معاملے میں سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے انہیں ستمبر کے دوران تین ہفتوں کے لیے بیرون ملک سفر کرکے علاج کرانے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم یہ اجازت مقررہ شرائط کی پابندی سے مشروط ہوگی۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ بیرون ملک روانگی سے قبل ابھیشیک بنرجی کو اپنے سفر کی مکمل تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوں گی۔ انہیں پروازوں کی معلومات کے ساتھ بیرون ملک قیام کی جگہ اور اس اسپتال یا ڈاکٹر کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی جہاں ان کا آنکھوں کا علاج کیا جائے گا۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ کسی بھی شہری کو بیرون ملک سفر کرنے اور اپنی پسند کے مطابق طبی علاج حاصل کرنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے معاملے کے مختلف پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے ابھیشیک بنرجی کو ستمبر میں تین ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔
ابھیشیک بنرجی کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ متعلقہ تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں اور بیرون ملک قیام کے دوران عدالت کی جانب سے عائد کی جانے والی تمام شرائط پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ علاج کے لیے بیرون ملک جانے کا مقصد صرف طبی ضرورت پوری کرنا ہے۔
اس سے قبل کلکتہ ہائی کورٹ نے ابھیشیک بنرجی کی بیرون ملک جا کر آنکھوں کا علاج کرانے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ہائی کورٹ نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ پہلے کولکتہ کے سرکاری ایس ایس کے ایم اسپتال کے ماہرین سے طبی مشورہ لیں اور اپنے علاج کے اختیارات پر غور کریں۔
ہائی کورٹ میں اس معاملے پر میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونے کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا تھا۔ عدالت کے مطابق ابھیشیک بنرجی کی جانب سے عدالت کی ہدایت کے مطابق میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے ان کی درخواست کو مزید زیر التوا رکھنے کے بجائے خارج کر دیا تھا۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، جہاں ابھیشیک بنرجی نے بیرون ملک علاج کے لیے سفر کی اجازت طلب کی۔ سپریم کورٹ نے درخواست پر غور کرتے ہوئے انہیں ستمبر میں تین ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی، تاہم سفر سے قبل مکمل سفری اور طبی تفصیلات فراہم کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔



