
نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی گلوکار رابرٹ #سلویسٹر کیلی (Robert Sylvester Kelly) گزشتہ دو سال سے جیل میں ہیں اور تاحال انہیں باضابطہ طور پر سزا نہیں سنائی گئی اور نہ ہی انہوں نے خود پر لگے والے الزامات کو تسلیم کیا ہے۔ان پر کم از کم دو کیسز میں عدالت میں فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے لیکن انہوں نے #صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔
اب ان کے خلاف باضابطہ طور پر ٹرائل شروع کرنے کے لوازمات کو مکمل کرلیا گیا اور رواں ماہ 18 اگست سے ان کے کیس کی باضابطہ سماعتیں ہوں گی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق آر کیلی کے خلاف باضابطہ ٹرائل شروع کرنے کے لیے 9 اگست کو #نیویارک کی عدالت میں سماعت ہوئی، جس میں گلوکار نے بھی شرکت کی۔
سماعت کے دوران ان کا ٹرائل کرنے والی جیوری کے ججز کا انتخاب کیا گیا اور اب ان کے خلاف باضابطہ طور پر اگست کے وسط کے بعد سماعتیں شروع ہوں گی۔یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے حتمی ٹرائل کی سماعتیں کتنے عرصے تک چلیں گی لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ تین ماہ تک چلتی رہیں گی۔جیوری ارکان کے انتخاب کے لیے ہونے والی سماعت میں #آرکیلی کے وکلا نے عدالت سے اپیل کی کہ ان کے موکل کے خلاف لگائے گئے بعض الزامات خارج کیے جائیں، جن میں کم از کم دو نوجوان لڑکیوں کو جنسی تعلقات کے ذریعے بیمار کرنے کے #الزامات بھی ہیں۔
اسی حوالے سے یاہو نیوز نے اپنی رپورٹ میں مختلف ویب سائٹس کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ آر کیلی کے وکلا نے عدالت سے لڑکیوں کو بیمار کرنے کے الزامات ختم کرنے کی اپیل بھی کی اور دلیل دی کہ مذکورہ بیماری کو امریکی محکمہ صحت نے قانونی طور پر مرض تسلیم نہیں کیا۔رپورٹ کے مطابق آر کیلی پر نیویارک کی عدالت میں ہونے والے ٹرائل میں مجموعی طور پر 2 نابالغ لڑکوں اور 11 لڑکیوں کے #ریپ اور ان کے جنسی #استحصال جیسے 22 کرمنل کیسز کی سماعت ہوگی۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 1990 سے 2018 تک متعدد نابالغ لڑکوں، لڑکیوں اور خواتین کو جنسی لذت کے لیے ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے سمیت ان کا جنسی استحصال کیا اور ان کے ساتھ جسمانی تعلقات استوار کرکے انہیں بعض جنسی بیماری بھی دیں۔ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے عالیہ نامی گلوکارہ سے 1994 میں اس وقت شادی کی جب لڑکی کی عمر 15 سال تھی جب کہ اس سے قبل ہی انہوں نے ان کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کیے تھے۔
گلوکار پر مجموعی طور پر کم از کم 100 خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ریپ اور ان کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے جیسے الزامات ہیں اور ان کے خلاف نیویارک کے علاوہ الینوائے اور مینیسوٹا کی عدالتوں میں بھی کیسز زیر سماعت ہیں۔اس سے قبل 2019 میں آر کیلی نے عدالت میں یہ تسلیم کیا تھا کہ جب ان کی شادی عالیہ سے ہوئی، اس وقت انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ کم عمر ہیں، انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ بالغ ہیں۔
خیال رہے کہ آر کیلی نے 1994 میں گلوکارہ عالیہ دنا ہفٹن سے شادی کی تھی جو 22 سال کی عمر میں اگست 2001 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں 8 افراد کے ساتھ ہلاک ہوگئیں تھیں۔رپورٹس کے مطابق شادی کے لیے #عالیہ کے جعلی کاغذات بنواکر ان کی عمر 18 سال لکھوائی گئی تھی جب کہ شادی سے قبل ہی گلوکار نے لڑکی سے 13 سال کی عمر میں رضامندی کے تحت جنسی تعلقات استوار کیے تھے۔امریکی قوانین کے مطابق #نابالغ افراد کے ساتھ رضامندی سے جنسی تعلقات استوار کرنا بھی جرم ہے۔
گزشتہ ہفتے ہی ان پر مزید 6 نئے الزامات لگائے گئے، جن میں سے یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے جن 15 سالہ لڑکوں کو ریپ کا نشانہ بنایا، ان ہی لڑکوں کو انہوں نے دوسری نابالغ لڑکیوں کا ریپ کرنے کا حکم بھی دیا اور ان کی ویڈیوز بھی بنائیں۔آر کیلی پر دوسری بیوی اینڈریا کیلی نے بھی بدترین جنسی تشدد کے الزام عائد کر رکھے ہیں۔اگر ان پر الزام ثابت ہوگیا تو انہیں کم از کم 10 سے 20 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوگی۔



