سیاسی و مذہبی مضامین

عرب مجاہد جن کے کارنامے عربوں کے بجائے اسرائیل نے ظاہر کیے

غلام غوث، بنگلور

عرب ممالک کی حکومتوں کے ہر شعبہ میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اسکی اطلاع اسرائیل کو ہو جاتی ہے۔ وہ عرب ممالک کے ہر اہم لیڈر کے متعلق مکمل معلومات رکھتے ہیں۔ اسکی روزمرہ کی زندگی،اسکی جنسی زندگی، اسکے عادات و اطوار ، اسکی صلاحیت اور کمزوری ،اسکے دوست و احباب،کے متعلق مکمل معلومات رکھتے ہیں۔

ہر ایسے شخص کے پیچھے خود اسی کے ساتھیوں میں سے کسی نہ کسی کو اپنا ایجنٹ بنا کر اسکے پیچھے لگا دیتے ہیں تاکہ وقت آنے پر اسکا خاتمہ کر سکیں یا اسکے حملہ سے بچ سکیں۔یہ اسلئے انہیں آسان ہے کیونکہ عربوں میں غداروں کی کمی نہیں ہے۔

عربوں میں مجاہدوں اور جانبازوں کی بھی کمی نہیں ہے مگر ان تمام کے متعلق ہمیں معلومات اسرائیل کے ذریعہ سے ملتے ہیں نہ کہ عربوں کے۔یوروپ ،امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں انکے کارنامے دہشت گردوں کے روپ میں دنیا کے سامنے پیش کر تے ہیں۔

ایسے ہی ایک جانباز اور مجاہد مسٹر عماد مغنیہ ہیں جنہوں نے اسرائیلیوں کی نیند حرام کر رکھی تھی۔انہیں پکڑنے یا مارنے کے لئے امریکہ اور اسرائیل نے انکے سر پرپانچ ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا۔انہیں امریکہ اور اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے ماسٹر مائنڈ سمجھا جا تا تھا۔ 15.11.2001 میں امریکہ کے ٹاورس پر حملہ کے بعد امریکہ نے بیس دہشت گردوں کی لسٹ شائع کی جسمیں اماد مغنیہ کا نام سر فہرست تھا۔

18.4.1983 میں بیروت لبنان کے امریکی سفارت خانے میں بم بلاسٹ ہوا جسمیں 63 افراد کی موت ہوگئی۔ 23.10.1983 میں بیروت کے امریکی اڈڈے پر بمباری میں 241 افرادکی موت ہو گئی۔ اسی دن بیروت کے فرانسسی اڈڈے پر بمباری میں 58 افراد کی موت ہو گئی۔سعودی عرب میں 20 امریکی سپاہی مار دیے گئیے، دو کویتی ہوائی جہازوں کو اغوا کیا گیا،اقوام متحدہ کے لبنانی نگہبان کرنل ہگنس کا قتل ہوا اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے افسر ولیم بکلے کا بھی قتل ہوا۔

14.11.1983 میں اسرائیلی ہیڈ کوارٹر IDF پر بمباری میں60 آدمی مرے۔ 10.3.1985 میں اسرائیلی بارڈر پر حملہ میں آٹھ فوجی مارے گئے ۔ 17.3.1992 میں ارجنٹائنا میں یہودی کلچرل سنٹر پر بمباری میں 92 آدمی مرے۔ کئی اسرائیلی جوجیوں اور بزنس مینوں کو اغوا کیا گیا ۔

لبنان اور اسرائیل میں جو جنگ ہوی وہ دو اسرائیلی فوجیوں ریگیو اور گولڈ واسیر کے اغوا اور قتل کے سبب تھا۔ان تمام اموات اور بمباری کا ماسٹر مائنڈ اسرائیل اماد مغینہ کومانتا ہے۔اماد مغنیہ 1962 میں بیروت میں ایک شیعہ خاندان میں پیدا ہوے ۔تعلیم ہائی اسکول تک تھی اور وہ یاسر عرفات کے ڈپیوٹی افسر ابو عیاد کے باڈی گارڈ تھے۔

میں جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا اور PLO کو شکست دیا تو عرفات اور انکے ساتھی تونس چلے گئے مگر مغنیہ بیروت ہی میں رہ کر حسب اللہ نامی تنظیم کے بانیوں میں شامل ہو گئے۔حسب اللہ ایران کی مدد سے اسرائیلیوں پر ہر طرف سے حملے کر نے لگا اور اسمیں مغینہ کا کردار اہم رہا۔

وہ کبھی پبلک کے سامنے نہیں آتے تھے اور کسی کو بھی اپنی فوٹو لینے نہیں دیتے تھے بلکہ وہ ہر کام خفیہ اور خاموشی کے ساتھ کر نے کے عادی تھے۔انہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھے جنہیں انہوں نے ایک محفوظ جگہ پر رکھ چھوڑا تھا۔

مغینہ بار بار پلاسٹک سرجری کے ذریعہ سے اپنی شناخت بدلتے تھے اور کہیں بھی اپنی فنگر پرنٹ نہیں چھوڑ تے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں انہیں قتل کر نے کے در پے ہیں۔

وہ ہر رات معمول کے بر خلاف الگ الگ جگہ پر سوتے تھے اور اپنے باڈی گارڈس بدلا کر تے تھے۔انکے متعلق اسرائیل کو کسی بھی قسم کی کمزوری جیسے عورتیں، شراب، جوا وغیرہ نہیں ملا سوائے اسکے کہ انکی ایک معشوقہ دمشق میں رہتی تھی۔

اسرائیلی ایجنٹس اور عرب غداروں نے اس گھر پر دن رات نگاہ رکھنا شروع کر دیا مگر مدتوں انہیں کامیابی نہیں ملی۔جنوری 1992 میں اسرائیلی جاسوسوں نے حسب اللہ کے لیڈر الموساوی کو قتل کر دیا ۔

اسکا بدلہ لینے کے لئے مغنیہ نے ارجنٹینا میں موجود اسرائیلی سفارت خانے کو ٹرک میں بارود بھر کر ٹکرا دیا اور اسے اڑا دیا۔ اس حادثے میں افراد مرے اور اور بے شمار زخمی ہو گئے ۔ اسرائیل نے مغنیہ پر کئی جان لیوا حملے کئیے مگر وہ ہر بار بچ گئیے۔ ایک مرتبہ لبنان میں مسجد کے پاس انکی کار کے قریب ایک بموں سے بھری کار کھڑی کر دی اور جب بم پھٹے تو انکے ایک رشتہ دار کی موت ہو گئی اور وہ بال بال بچ گئیے۔

مغینہ نے اپنی کار بدل دی تھی اس لئے وہ بچ گئیے۔اس سلسلہ میں بیروت پولیس نے ایک عرب احمد حلیک اور اسکی بیوی کو گرفتار کر لیا جنہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے لئے کام کر تے تھے اور انہوں نے ہی مغنیہ کے مسجد آنے کی اطلاع دی تھی۔

مغینہ ایک چھلاوہ تھے جو ہر بار اپنی شناخت بدل کر حملے کرواتے تھے۔اسرائیل نے کئی لبنانی مسلمانوں کو بھاری معاوضہ دے کر اپنے مخبر بنا لیا تھا جسمیں یک لڑکی جو مغینہ کے ایک دور کے بھائی کو جانتی تھی اس نے ایک دن موساد کو اطلاع دی کہ مغنیہ نے حال میں جرمنی میں اپنی شناخت بدل دی ہے۔

اس پر اسرائیلی ایجنٹوں نے چھان بین شروع کر دی اور بلاآخر اْس اسٹڈیو کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔انکے ہاتھ مغنیہ کے فوٹو لگ گئیے۔

مغینہ اپنا زیادہ تر وقت شام اور ایران میں گزارتے تھے جہاں وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے۔وہ شاذ و نادر ہی اپنی شناخت بدل کر یوروپی ممالک کا سفر کر تے تھے۔ اب عرب غداروں نے اسرائیل کو مغینہ کے متعلق پل پل کی خبر دینے لگے۔

اسرائیل نے محسوص کیا کہ انہیں شام اور ایران میں قتل کر نا مشکل ہے مگر دیگر ممالک میں انہیں آسانی کے ساتھ قتل کیا جا سکتا ہے۔ مگر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے طئے کیا کہ انہیں ملک شام میں ہی قتل کیا جائے تاکہ ہر عرب دہشت گرد کو معلوم ہو جائے کہ وہ کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

اسرائیل کو جاسوسوں نے اطلاع دی کہ 12.2.2008کو ایرانی انقلاب کی سالگرہ شام اور ایران دونوں جگہ منائی جائے گی اور مغنیہ ہ شام آ کر اس تقریب میں شرکت کریں گے۔اب اسرائیلی جاسوس چاروں طرف دوڑنے لگے ااور یہ معلوم کر نے لگے کہ وہ کب آئے گا اور کہاں ٹہرے گا۔ غداروں نے مغینہ کی کار میں انہیں ٹریک کرنے والے ٹرانسمیٹر رکھ دیے اور پل پل کی خبر اسرائیلی جاسوسوں کو دینے لگے۔

اسرائیل نے اپنے سب سے ہوشیار اور مکار جاسوسوں کو اس کام پر لگا دیا۔بم اور بارود کو اسرائیلی ایجنٹوں کے ذریعہ شام اسمگل کر دیا گیا۔تین بہترین اسرائیلی ایجنٹ الگ الگ ملکوں کے ذریعہ ٹورسٹوں کی حیثیت سے دمشق میں داخل ہو گئیے اور پہلے سے موجود ایجنٹوں کی مدد سے ایک کار کرائے پر لی اور ایک خفیہ گیرج میں بموں اور بارود کے ساتھ مقیم ہو گئیے۔

انہیں امید تھی کہ وہ سب سے پہلے اپنی معشوقہ کے گھر جائیں گے جہاں انکی شناخت کر لی جائے گی اور انکا پیچھا کیا جائے گا۔ اب سوچنا یہ ہے کہ عرب ممالک ایسے اپنے بہادوروں کے کارناموں پر مضامین کیوں نہیں لکھتے اور دنیا کو کیوں نہیں بتاتے جیساکہ اسرائیل اور دیگر ممالک اپنے جانبازوں کے متعلق کر تے ہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ سعودی عرب کے شہزادے خالد بن سلمان نے بھی امریکہ میں 22 جولائی 2018 کو عماد مغنیہ کو ایک دہشت گرد کہا اور انہیں مسلمانوں کا دشمن کہا۔کاش وہ اس ہیرو اور مجاہد کو خراج عقیدت پیش کرتے۔مذہبی حضرات جو انگریزی میگزین اور کتابیں نہیں پڑھ سکتے ان سے میری گزارش ہے کہ وہ ایسے مظامین پڑھیں اور اپنی معلومات میں اضافہ کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button