بین الاقوامی خبریںسرورق

فلسطین دھڑوں اور اسرائیل کی 15 برس میں 4 جنگیں

جلد جنگ روکنا ناممکن ہے، غزہ کے فلسطینی گروپوں کی دھمکی

لندن، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ان کا فلسطینی تنظیم ’حماس‘ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ حماس نے 5 ہزار راکٹ فائر کرکے اسرائیل پر حملہ کردیا۔ فلسطینی جماعت کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے زمینی، فضائی اور سمندری راستوں سے حملہ کیا۔ یاد رہے اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں نے 2005 میں غزہ کی پٹی سے انخلا کیا تھا۔اس کے بعد سال 2008، سال 2012، سال 2014 اور سال 2021 میں اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے فلسطینی دھڑوں کے درمیان بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔فریقین کے درمیان ان چار اہم محاذ آرا ئیوں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

کاسٹ لیڈ:27 دسمبر 2008 کو اسرائیل نے فلسطینیوں کو اسرائیل پر راکٹ داغنے سے روکنے کے مقصد سے کاسٹ لیڈ کے نام سے ایک آپریشن شروع کردیا اور غزہ کے مقامات پر فضائی حملوں کی مہم شروع کردی۔ بعد ازاں پیادہ دستوں کو بھی جنگ میں لگا دیا گیا۔ جنگ بندی کا اعلان ہونے تک 1440 فلسطینی جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور 13 اسرائیلی مارے گئے تھے۔

کلاؤڈ پلر:14 نومبر 2012 کو اسرائیل نے حماس کے مسلح ونگ میں ملٹری آپریشنز کے کمانڈر احمد الجعبری کو قتل کر کے فوجی کشیدگی شروع کر دی۔ اسرائیل نے ’’کلاؤڈ پلر‘‘ کے نام سے ایک آپریشن کیا جو آٹھ دن تک جاری رہا۔ مصر کی طرف سے سپانسر کردہ جنگ بندی پر عمل درآمد سے قبل 177 فلسطینیوں اور چھ اسرائیلیوں کی اموات ریکارڈ کی گئیں۔پروٹیکٹو ایج:8 جولائی 2014 کو غزہ میں آپریشن ’’پروٹیکٹو ایج ذ‘ شروع ہوا جس کا مقصد راکٹ فائر کو ختم کرنا اور سرنگوں کو تباہ کرنا تھا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں 2251 فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ 68 فوجیوں سمیت 74 اسرائیلی بھی ہلاک ہوگئے۔الیون ڈے وار:مئی 2021 میں اسرائیل نے حماس کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹوں کے جواب میں ایک فوجی مہم شروع کردی جو 11 دن جاری رہی۔ اس لڑائی کو ’الیون ڈے وار‘ کا نام دیا گیا۔اس لڑائی میں فضائی حملے اور توپ خانے کی گولہ باری بھی کی گئی۔اس سے غزہ میں 248 افراد جاں بحق ہوئے۔ مرنے والوں میں 66 بچے بھی شامل تھے۔ اسرائیل کی جانب ایک فوجی سمیت 13 افراد مارے گئے۔


جلد جنگ روکنا ناممکن ہے، غزہ کے فلسطینی گروپوں کی دھمکی

غزہ، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسلامی جہاد تحریک کے رہنما اور اس کے سیاسی بیورو کے رکن ناصر ابو شریف کے مطابق غزہ کے فلسطینی گروپوں نے جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ کو جلد روکنا ناممکن ہے۔ابو شریف نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل چاہتا ہے تو تمام فریق حرکت میں آسکتے تھے۔ لیکن اب اسرائیل مزاحمتی گروپوں سے سخت دھچکے کے بعد قیمت چکانا چاہتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قیدیوں کے معاملہ میں تبادلہ کی بات جلد مذاکرات کی میز پر لائی جائے گی۔ خاص طور پر بڑی تعداد میں اسرائیلیوں کی قید ہونے کی وجہ سے قیدیوں کے تبادلہ کا معاملہ پر پیش رفت کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی دھڑوں کے ہاتھ میں اسرائیلی قیدیوں کی بڑی تعداد کا ہونا اسرائیل کو قیدیوں کا معاملہ اٹھانے پر مجبور کرے گی۔

لیکن اسرائیل فی الحال حالیہ حملے کی سب سے زیادہ قیمت وصول کرنا چاہتا اور اس کے ساتھ جو ہوا اس کا جواب دینا چاہتا ہے۔ اس کے بعد ہی قیدیوں کے معاملہ پر بات چیت ہو سکتی ہے۔الناصر صلاح الدین بریگیڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’طوفان الاقصیٰ‘کے تحت الناصر صلاح الدین بریگیڈ نے خودکش ڈرون استعمال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ابو شریف نے یہ بھی کہا کہ اس محاذ آرائی میں مزید حیرت انگیز باتیں ابھی سامنے آنے والی ہیں۔ القسام بریگیڈز کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے معرکہ ’طوفان الاقصیٰ‘کے دوران آغاز میں ہی تمام محاذوں پر 35 خود کش ڈرونز کا استعمال کیا۔ ان ڈرونز نے دشمن کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔


حزب اللہ سے ممکنہ لڑائی، اسرائیل نے شمالی علاقوں کو خالی کرنے کا بھی منصوبہ بنا لیا

مقبوضہ بیت المقدس، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس اور اسرائیل کے درمیان تصادم دوسرے روز بھی جاری رہا۔ ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلانٹ نے لبنان اور شام کے ساتھ شمالی سرحد پر واقع قصبوں کو ممکنہ طور پر خالی کرنے کے منصوبے تیار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ حکم اس محاذ پر جنگ شروع ہونے کے امکان کے پیش نظر دیا گیا ہے۔اخبار کے مطابق گیلانٹ نے فوجی رہنماؤں اور دیگر حکام کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔ اس اجلاس میں انہوں نے غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد کے قریب واقع قصبوں سے اسرائیلیوں کو نکالنے کی کوششوں پر حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے اسرائیل کی شمالی سرحد کے قریب موجود قصبوں کے ممکنہ انخلا کے منصوبے تیار کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

وزیر دفاع نے غزہ کی سرحد کے قریب واقع قصبوں میں سکیورٹی ٹیموں کو ہتھیار، گولہ بارود اور دستے فراہم کرنے کا بھی حکم دیا۔ واضح رہے ہفتہ کو حماس کی جانب سے جنگ کے آغاز کے بعد اتوار کو اسرائیلی حکام نے باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان کردیا ہے۔وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیل پر مسلط کی گئی جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی سے ہونے والے مہلک دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے ہوا ہے۔ یاد رہے 6 اکتوبر 1973 کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے ریاستی جنگ کا اعلان کیا ہے۔


اسرائیلی کے لیے فوری امریکی امداد، طیارہ بردار بحری جہاز روانہ

واشنگٹن ، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے امریکی صدر جو بائیڈن نے حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کو اضافی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو آگاہ کیا کہ حماس کے حملوں کے بعد اضافی امریکی فوجی امداد اسرائیل کے لیے جا رہی ہے۔ اس میں سے زیادہ حصہ آنے والے دنوں میں اسرائیل پہنچ جائے گا۔امریکی ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بائیڈن اور نیتن یاہو نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موجودہ کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کہ اسرائیل کے دشمنوں کو یہ سمجھنے سے روکا جائے کہ وہ جمود کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا اسے استعمال کرسکتے ہیں۔امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کے قریب طیارہ بردار بحری جہاز کے اسٹرائیک گروپ کو منتقل کر رہا ہے۔

اس گروپ میں فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کی حمایت کرنے والے بحری جہاز شامل ہیں۔لائیڈ آسٹن نے مزید کہا کہ امریکہ اسرائیل کو گولہ بارود فراہم کرے گا۔ اس کی سکیورٹی امداد آج سے شروع ہوجائے گی۔ پینٹاگون خطے میں لڑاکا طیارے بھی بھیجے گا۔اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ بلینکن نے کہا تھا کہ امریکہ اضافی فوجی امداد کے لیے اسرائیل کی درخواستوں کا مطالعہ کر رہا ہے اور اس حوالے سے آج یعنی اتوار کو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ اسرائیل میں بہت سے امریکی بھی مارے گئے ہیں۔ امریکیوں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ہم اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ اتوار کو اسرائیل کی حکومت نے سرکاری طور پر حالت جنگ میں داخل ہونے کا اعلان کردیا۔ 6 اکتوبر 1973 کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے پہلی مرتبہ ”ریاستی جنگ” کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے حماس نے ہفتہ 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے ہزاروں راکٹ برسا کر اسرائیل پر حملہ کردیا تھا۔


حماس کے جنگجو اب بھی اندر ہیں، اسرائیل نے ابھی تک انہیں وہاں سے نہیں نکالا

مقبوضہ بیت المقدس، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی فوج کی اس بات کی تصدیق کے ساتھ کہ اس کی افواج اب بھی متعدد اسرائیلی بستیوں اور شہروں میں فلسطینیوں کی دراندازی کا مقابلہ کر رہی ہیں، حماس نے اعلان کیا کہ اس کے جنگجو اب بھی اندر موجود ہیں۔حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے اتوار کے روز ایک بیان میں وضاحت کی کہ اس کے جنگجو اسرائیل کے اندر کئی مقامات پر اب بھی شدید جھڑپوں میں مصروف ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے ملحقہ کئی علاقوں میں ابھی بھی لڑائی جاری ہے، جن میں اوفاکیم، سدیروٹ، ید موردچائی، کفر عزا، بیری وائٹڈ اور کسوفیم شامل ہیں۔دوسری طرف اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا کہ وہ ابھی تک دراندازوں کا مقابلہ کرنے میں کامیابی کا اعلان کرنے سے بہت دور ہے۔

پولیس کے ترجمان ایلی لیوی نے ’یدیعوت احرونوت‘ ویب سائٹ کو بتایا کہ ہم اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے والے دراندازوں کا مقابلہ کرنے میں اپنی کامیابی کا اعلان کرنے سے بہت دور ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ”غیر واضح طور پر اسرائیل کی سرحدوں کے اندر مسلح افراد موجود ہیں۔’اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس نے غزہ میں 426 اہداف پر بمباری کی۔فلسطینی وزارت صحت کے انڈر سیکرٹری یوسف ابو الریش نے العربیہ الحدث کو وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ محاذ آرائی کے آغاز سے اب تک فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 313 ہو گئی ہے اور تقریباً 1,900 زخمی ہو چکے ہیں۔اسرائیل کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد 350 تک پہنچ گئی اور 1,700 سے زائد زخمی۔ہلاک ہونیوالوں میں 30 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔


حماس کے پاس گرفتار اسرائیلیوں کی تعداد بہت زیادہ، مصر کی ثالثی کی کوشش

قاہرہ، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حماس کے عسکری ونگ اور دوسرے تنظیموں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف شروع کیے گئے طوفان اقصیٰ آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔دوسری طرف اسرائیل اور فلسطینیوں کیدرمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے مصرنے ثالثی کی کوششیں شروع کردی ہیں۔اسرائیل کے عبرانی چینل 12 کے مطابق ایک باخبر سیاسی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ قاہرہ ان اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے جنہیں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے غزہ کی پٹی میں لے جایا تھا۔ذرائع نے وضاحت کی کہ بات چیت بزرگوں اور بچوں پر مرکوز ہے جن کی بڑی تعداد کو یرغمال بنایا گیا ہے۔تاہم مصری حکام کی جانب سے اس تناظر میں ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، جس نے ہفتے کے روز اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ اس مقصد کے لیے کام کریں گے۔یہ بات اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے امریکی اے بی سی نیٹ ورک کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی اور سویلین قیدیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔


حماس کے حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد میں امریکی بھی شامل

نیویارک، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکہ میں اسرائیل کے سفیر نے کہا ہے کہ حماس کے غزہ سے اسرائیل پر حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد میں نامعلوم تعداد میں امریکی بھی شامل ہیں۔ امریکی ٹی وی سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ کیا یرغمالیوں میں امریکی شہری شامل ہیں؟جواب میں اسرائیلی سفارتکار مائیکل ہرزوگ کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی تفصیلات موجود ہیں لیکن میرے پاس تفصیلات نہیں ہیں۔اسرائیلی حکومت کے پریس آفس کا کہنا ہے 100 سے زیادہ اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ انتونی بلکن نے امریکی ٹی وی بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ ان اطلاعات کی جانچ پڑتال کر رہی ہے کہ حماس کے حملے میں ہلاک ہونے اور یرغمال بنائے جانے والوں میں امریکی شہری شامل ہیں۔فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں ایک فرانسیسی شہری شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک ریکارڈ شدہ بیان میں بتایا کہ اچانک حملے میں پکڑے جانے والے اسرائیلیوں کی کل تعداد اسرائیلی وزیر اعظم کے اعلان سے کئی گنا زیادہ ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے ’اسرائیل فوج نے اتوار کو غزہ میں 800 مقامات کو نشانہ بنایا جس میں حماس کے سیکڑوں جنگجو ہلاک ہوگئے اور درجنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک اسرائیل ٹی وی کے حوالے سے بتایا حماس کے حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد 700 تک پہنچ گئی ہے۔اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) کے عہدیدار نے کہا ہے کہ’اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ سے 20 ہزار سے زیادہ فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔اونروا میں ابلاغی مشیر عدنان ابو حسنہ نے بتایا کہ 20300 فلسطینی غزہ پٹی میں اونروا کے سکولوں میں پناہ گزین ہیں۔ اونروا کے ماتحت 44 سکول ہیں ان میں سے 28 ایسے ہیں جہاں نقل مکانی کرنے والوں کو ٹھہرانے کے انتظامات ہیں۔نقل مکانی کرنے والے بیشتر فلسطینی غزہ پٹی کے شمال اور جنوب کی کمشنریوں سے اسکولوں میں پہنچے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔


فلسطین نے عرب وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

غزہ ، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) فلسطین اتھارٹی نے اسرائیلی جارحیت بند کرانے کے لیے عرب وزرائے خارجہ کا غیرمعمولی اجلاس طلب کیا ہے۔اخبار 24 کے مطابق عرب لیگ کے معاون سیکریٹری جنرل حسام زکی نے کہا ہے کہ’جنرل سیکریٹریٹ کو فلسطین کی جانب سے ممکنہ قریبی وقت میں عرب وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کے حوالے سے درخواست موصول ہوئی ہے۔ حسام زکی نے کہا کہ ’عرب لیگ جنرل سیکریٹریٹ مراکش سمیت متعدد ممالک کے ساتھ جلد اجلاس بلانے کے سلسلے میں مشاورت کررہاہیے، مراکش ان دنوں عرب لیگ سیشن کا سربراہ ہے۔ کوشش ہے اجلاس میں زیادہ سے زیادہ عرب وزرا شریک ہوں۔


حماس ــ-اسرائیل جنگ، سکیورٹی کونسل کا بند کمرہ اجلاس طلب

نیویارک، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے حماس اور اسرائیل کے درمیان ہفتے سے جاری لڑائی سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیاہے جب کہ فلسطینی اتھارٹی نے عرب لیگ کا اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔پندرہ رکنی سیکیورٹی کونسل، جس میں امریکہ سمیت پانچ مستقل ارکان شامل ہیں، موجودہ صدر برازیل کی سربراہی میں اتوار کو بند کمرے کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے مسئلے پر بات چیت کرے گی۔سفارتی فورم کے صدر برازیل نے ایک بیان میں غزہ سے عسکریت پسندوں کی جانب سے اسرائیل پر حملے کی مذمت کی ہے اور تمام فریقین کو احتیاط برتنے پر زور دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور سلامتی کے لیے اسرائیل اور فلسطین کی شکل میں دو الگ الگ ریاستی حل کے موقف کا اعادہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں تعینات اسرائیل کے سفیر گلاد ایردان نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور برازیل کے مندوب کے نام ایک خط میں اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ ترین سفارتی فورم میں حماس کی مذمت کرنے پر زور دیا ہے۔غزہ کی پٹی سے حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے سفیر نے کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔عالمی ادارے کے سربراہ انتونیو گوتریس نے اسرائیلی قصبوں پر حماس کے حملوں کی مذمت کی ہے۔سیکریٹری جنرل کے ترجمان کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ شہری آبادی کے لیے فکر مند ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینے پر زور دیتے ہیں۔ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ سیکریٹری جنرل نے زور دیا ہے کسی وسیع تصادم سے بچنے کے لیے تمام سفارتی کوششیں کی جانی چاہئے۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے وزرائے خارجہ کی سطح پر عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔

فلسطینی خبر رساں ادارے ’وفا‘ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے اس سلسلے میں عرب لیگ کو یاد داشت جمع کرائی ہے۔عرب لیگ کے سفیر مہناد الکلوک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملاقات کی درخواست فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی روشنی میں کی گئی ہے جس میں ہزاروں آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ پر حملے میں اضافہ بھی شامل ہے۔رپورٹس کے مطابق عراق نے بھی عرب لیگ کا اجلاس بلانے کی حمایت کی ہے۔’رائٹرز‘ کے مطابق فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے اسرائیل پر کئی برس میں سب سے بڑے حملے کے بعد عرب لیگ کے سربراہ احمد ابوالغیط اتوار کو روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاووروف سے غزہ کی صورتِ حال پر بات چیت کے لیے ماسکو روانہ ہوئے ہیں۔اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہونے کہا ہے کہ ان کا ملک حالتِ جنگ میں ہے اور وہ پر اعتماد ہیں کہ اسرائیل یہ جنگ جیت جائے گا۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے فلسطینی ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کو قابض فوجیوں اوراسرائیلی آبادکاروں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کے روز حماس کی طرف سے اسرائیل پر مہلک حملے کے بعد تشدد کے نئے سلسلے کے آغاز سے خبردار کیا ہے۔مصر تاریخی طور پر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔امریکہ نے فلسطینی عسکری گروہ حماس کے اسرائیل پر حملوں کی مذمت کی ہے اور تل ابیب سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے دفاع کا حق حاصل ہے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ایک خطاب میں کہا ہے کہ حماس کی کارروائیوں کا کوئی جواز قابلِ قبول نہیں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات افسوسناک ہیں۔امریکی صدر نے اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے فون پر بات کی اور اردن کے بادشاہ اور امریکہ کے سیکیورٹی حکام سے بھی رابطے کیے۔امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے بھی اپنے بیان میں اسرائیل پر حماس کے حملوں کی مذمت کی اور انہیں اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا۔سوشل میڈیا پلیٹ پر بیان میں بلنکن نے خطے کے تمام ممالک پر اس دہشت گردی کی مذمت کرنے کے لیے زور دیا۔سفارتی کوششوں کے سلسلے میں بلنکن نے اسرائیل، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، اردن کے وزرائے خارجہ اور قطر کے وزیرِ اعظم سے رابطے کیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button