بین الاقوامی خبریںسرورق

حماس کے ذریعہ گرفتار اسرائیلی جنگی قیدی یاہو حکومت کے گلے کی ہڈی بن گئے

غزہ پر ہمارے حملے ابتدا، حماس سے جنگ کا پورا بدلہ چکائیں گے: نیتن یاھو

غزہ، 10اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس کے حریت پسندوں کے ہاتھوں بیسیوں اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کی گرفتاری جیسے واقعات صہیونی ریاست کے عوام کے جذبات کو ملک کی حالیہ تاریخ میں کسی بھی بحران سے زیادہ شدت کے ساتھ سامنے لائے ہیں جس سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن ایک شدید مخمصے سے دوچار ہو گئے ہیں۔سال 2006 میں راسخ العقیدہ فلسطینیوں کی تنظیم حماس کی جانب سے گیلاد شالیت،ایک واحد نوجوان اسرائیلی فوجی کو قبضے میں لینے سے شروع ہونے والے بحران نے اسرائیلی معاشرے کو برسوں تک شدید بحران کا شکار کئے رکھا- یہ ایک قومی جنون میں بدل گیا جس نے اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر شدید بمباری کرنے پر اکسایا اور بالآخر اسے شالیت کی حماس کی قید سے آزادی کے بدلے میں 1,000 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر مجبور ہونا پڑا جن میں سے کئی ہلاکت حملوں کے الزام میں پابند سلاسل تھے۔

اس بار، غزہ پر حکومت کرنے والی حماس کے کارکنوں نے ہفتے کے روز ایک کثیر الجہتی حملے کے ایک حصے کے طور پر بیسیوں اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو جنگی قیدی بنا لیا۔ اس مشترکہ کارروائی میں شامل فلسطینی اسلامی جہاد نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ صرف اس کے پاس 30 اسرائیلی قید میں ہیں۔قیدیوں کے اس غیر معمولی بحران نے نیتن یاہو حکومت اور اس کے جنونی انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں پر کے غم و غصہ میں شدید اضافہ کر دیا ہے، جو پہلے ہی حماس کے حملے میں 700 سے زیادہ اسرائیلیوں کی ہلاکت کا جواب دینے کے لیے شدید دباؤ میں ہیں۔ ان حالات میں نیتن یاہو حکومت پر دبائو بڑھتا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج حماس پر پوری طاقت سے حملہ کرے۔

اس صورحال کے نتیجے میں غزہ میں نامعلوم مقامات پر مقید اسرائیلی شہریوں کی رہائی کی خاطر جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ نے گنجان آباد غزہ کی پٹی میں رہائش پذیر لاکھوں فلسطینی عوام کی زندگی کو لاحق خدشات کو جنم دیا ہے۔پچھلے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو غزہ کی ایک چھوٹی سی پٹی میں جو تین اطراف سے اسرائیل میں گھری ہوئی ہے میں اسرائیلی یرغمالیوں کا پتہ لگانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

ماضی میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیاں شالیت کی تلاش اور رہائی کے معاملے میں بری طرح ناکام رہیں تھی – اب نہیں مزید ہمہ جہت اور بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ غزہ کا علاقہ چھوٹا ہے، اور اس کی مسلسل فضائی اور دیگر ذرائع استعمال کر کے نگرانی کی جاتی ہے اور اسے اسرائیلی زمینی اور بحری افواج نے گھیر ہوا ہے، تاہم اس سب کے باوجود اسرائیلی دارلخلافہ سے تل ابیب سے محض ایک گھنٹہ کی مسافت پر موجود اس علاقے میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے جیسے پر جلتے تھے۔واضح رہے کہ 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضہ کرنے کے بعد سے تقریباً 750,000 فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید رہ چکے ہیں، زیادہ تر فلسطینیوں نے یا تو اسرائیلی جیلوں میں وقت گزارا ہے یا وہ کسی کو ایسے قیدی کے خاندان کو جانتے ہیں۔ اسرائیل انہیں دہشت گرد کے طور پر دیکھتا ہے لیکن فلسطینی علاقوں میں ان قیدیوں کو ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کی مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم خود مختار حکومت اپنے سالانہ بجٹ کا تقریباً 8 فیصد حصہ ان فلسطینی قیدیوں اور ان کے خاندانوں کی کفالت کے لیے وقف کرتی ہے۔حالیہ بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے فلسطینی سینٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ کے ڈائریکٹر خلیل شکاکی نے کہا کہ کسی بھی فلسطینی قیدی کی رہائی حماس کے لیے بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ اس سے فلسطینیوں کی نظر میں حماس کی پوزیشن مضبوط ہو جائے گی۔ادھر حماس کے حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے اسرائیلیوں کے اہل خانہ نے ایک نیوز کانفرنس کی جسے پرائم ٹائم کے دوران براہ راست نشر کیا گیا۔ان غمگین رشتہ دارحکومت سے مطالبہ کیا کہ مغویوں کو فوری گھر واپس لایا جائے۔


غزہ پر ہمارے حملے ابتدا، حماس سے جنگ کا پورا بدلہ چکائیں گے: نیتن یاھو

مقبوضہ بیت المقدس، 10اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ تیسرے روز بھی جاری رہی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ غزہ پر ہمارے حالیہ حملے صرف آ غاز ہیں۔ ہم حماس کے ساتھ جنگ کا حل نکالیں گے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ اسرائیل کے اندر مزید فلسطینی عسکریت پسندوں کی موجودگی کی تصدیق کے باوجود ان کی افواج حماس کے ساتھ جنگ کو حل کریں گی۔انہوں نے دھمکی دی کہ حماس کے ٹھکانوں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پہلا قدم غزہ کی پٹی کو عسکریت پسندوں سے پاک کرنا تھا۔ دوسرا اس پٹی پر شدید حملہ کرنا تھا جو اس وقت ہو رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اسرائیلی افواج جو کچھ کریں گی اس کی بازگشت آنے والی نسلوں تک رہے گی۔امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے بارے میں نیتن یاہو نے کہا کہ خطے میں اسرائیل کے دشمنوں کو اس بحری جہاز کی آمد کی اہمیت کا احساس ہے۔ یہ بحری جہاز اسرائیل کی حمایت کے لیے خطے میں موجود ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کی جانب سے کسی بھی ممکنہ مداخلت کا مقابلہ کرنے کے لیے شمالی سرحد پر اسرائیلی موجودگی میں شدت پیدا کرنے کا بھی اعلان کیا۔ نیتن یاہو نے حزب اختلاف کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ہنگامی حکومت تشکیل دیں۔ اس وقت اسرائیل میں اندرونی تقسیم ختم ہو چکی ہے۔


غزہ کے آس پاس کی آبادیوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا، اسرائیل کا دعویٰ

مقبوضہ بیت المقدس، 10اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان شدید تصادم کے تیسرے دن اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ کی پٹی کے قریب رہائشی آبادیوں پر دوبارہ کنٹرول بحال کر لیا ہے۔ ان میں سے بعض علاقوں پر حماس نے اپنے حملے میں کنٹرول کر لیا تھا۔اسرائیلی فوجی عہدیدار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کچھ مقامات پر اب بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ کچھ فلسطینی عسکریت پسند علاقے میں باقی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شمال میں کوئی لڑائی نہیں ہے اور ہم کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حماس کے حملے میں تقریباً 700 افراد ہلاک ہوئے جن میں کم از کم 73 فوجی بھی شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ پر کنٹرول کرنے والی حماس اور اسرائیل کے درمیان ہفتے کے روز ایک نئی جنگ چھڑ گئی۔حماس نے اسرائیلی علاقوں پر کئی راکٹ داغے اور اسرائیل میں دراندازی کی۔ خیال رہے کہ اکتوبر 1973 کی جنگ کی پچاسویں برسی کے یہ آپریشن پانچ دھائیاں قبل لڑی گئی جنگ کی یاد تازہ کرتا ہے جس میں اڑھائی ہزار اسرائیلی ماریگئے تھے۔


اسرائیل نے مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے سارے راستے بند کر دیئے

مقبوضہ بیت المقدس، 10اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل نے غزہ کے محاصرے کو مزید شدید تر کرنے کے بعد مغربی کنارے میں بھی فلسطینی عوام کی نقل و حرکت کو مکمل روک دینے کی خاطر یروشلم سے جڑے تمام راستوں کو بند کر دیا ہے اور چیک پوسٹوں کی تالا بندی کر دی ہے۔اسی اسرائیلی پابندی کا ایک حصہ یہ ہے کہ عام نوجوان فلسطینیوں کو مسجدوں میں نماز یا کسی اور انتہائی ضرورت کے لیے بھی سڑکوں پر آنے اور یروشلم کی طرف جانے سے روک دیا ہے۔فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق مغربی کنارے سے یروشلم کی طرف لنک اپ کرنے والی شمال مغربی چیک پوسٹوں کے علاوہ مغربی کنارے میں سب سے بڑی چیک پوسٹ قلندیہ کو بھی اسرائیلی فورسز نے بند کر دیا ہے۔اس جنگی ماحول کو مغربی کنارے میں زیادہ شدید کرنے اور فلسطینی عوام کے خلاف کارروائیاں کرنے کی خاطر شوئفات مہاجر کیمپ، بیت اقصیٰ اور الجیب چیک پوسٹ کو بھی بند کر دیا ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے یہ اقدامات در حقیقت مسجد اقصیٰ کی طرف مسلمانوں کو جانے سے روکنے اور نمازوں کے دوران کم مسجد اقصیٰ کو خالی رکھنے کی کوشش ہے۔یہ پابندی پیر کی صبح سے شروع کی گئی ہے۔ صرف بڑی عمر کے لوگوں کو مسجد جانے کی اجازت دی گئی ہے۔


غزہ پر اسرائیلی حملہ چوتھے روز بھی جاری، سرحد پر اسرائیلی ٹینکوں کی واپسی

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل چوتھے دن بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس میں صحافیوں سمیت میں درجنوں نہتے فلسطینی شہید وزخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔اسرائیل نے منگل کو علی الصباح غزہ کے مختلف علاقوں پر بمباری کا نیا سلسلہ شروع کیا۔الحدث کے مطابق حملے کے دوران اسرائیلی بحریہ نے خان یونس اور غزہ کے ساحل پر میزائل داغے۔اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ غزہ میں حماس کو نشانہ بنانے کے لئے 200 مقامات کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی فوج نے پیر کو کہا تھا کہ اس کی فضائیہ غزہ کی پٹی میں حماس تحریک کے خلاف "اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ” کر رہی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دوسری طرف حماس کے مسلح افراد نے غزہ کی پٹی کے آس پاس کی متعدد بستیوں پر حملہ شروع کیا ہے۔


اسرائیلی فوج کا حماس کے 1500 جنگجوؤں کی نعشیں ملنے کا دعویٰ؟

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے ارد گرد جاری فضائی حملوں کے دوران لگ بھگ 1500 فلسطینیوں کو لقمہ اجل بنانے کا دعوی کیا ہے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق یہ فلسطینی جنگجو تھے۔ ان کی نعشیں غزہ کے اردگرد سے ملی ہیں۔اسرائیلی فوجی ترجمان نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ غزہ بارڈر کے ساتھ اسرائیلی پوزیشن مضبوط کر لی گئی ہے اور تقریبا ہر جگہ کا کنٹرول واپس فوج کے پاس آگیا ہے۔

واضح رہے ہفتے کے روز سے جاری جنگ کے بعد اسرائیلی ترجمان نے یہ دعوی منگل کے روز کیا ہے۔ ہفتے کے روز سے اب تک لگ بھگ 900 اسرائیلی ہلاک کر دئیے گئے ہیں، درجنوں کو فلسطینی مزاحمت کاروں نے قید کرنے کے بعد غزہ میں یرغمال بنا لیا ہے۔تاہم منگل کے روز فوجی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے اردگرد کنٹرول کرنے کے بعد پیر اور منگل کی درمیانی شب کوئی بھی غزہ میں فلسطینی داخل نہیں ہو سکا۔ البتہ غزہ سے اسرائیلی قبضے والے علاقوں میں ابھی فلسطینی مزاحمت کاروں کی مداخلت جاری ہے۔فوجی ترجمان نے غزہ کے نزدیک آباد اسرائیلیوں سے ان کی بستیاں خالی کرا لی ہیں تاکہ وہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔دوسری جانب ایک اندازے کے مطابق اب تک اسرائیلی بمباری سے غزہ کے رہائشیوں کی کم و بیش 687 شہادتیں ہو چکی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button