ایران پر حملہ کی سوچ کی بھی غلطی نہ کی جائے، تہران کا قبل از وقت انتباہ
اسرائیل پر حملے میں ملوث نہیں، اپنی ناکامی کا ٹھیکرا ہمارے سر نہ پھوڑے: ایران
تہران ، 10اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس کے جنگجوؤں کے اسرائیل پر حملے کے بعد ایران نے خبردار کیا ہے کہ کوئی اس کی سرزمین پر حملہ کرنے کا نہ سوچے۔ ایرانی حکومت نے حماس اور اسرائیل کے مابین جاری جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ حماس کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے بعد کوئی ملک ایران پر حملہ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے وضاحت کی کہ ان کا ملک اس تنازعے میں شریک نہیں اور اسرائیلی حکومت ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت سے باز رہے۔اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے بھی کہا ہے کہ اسرائیل پر حملے میں ایران ملوث نہیں۔
حماس کے جنگجوؤں کو ایرانی حکومت کی حمایت حاصل ہے، اس لیے ایسے شکوک تھے کہ اس نئے حملے میں بھی ان فلسطینی جنگجوؤں کے لیے تہران کی تائید و حمایت ہو سکتی ہے۔تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کنعانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس جنگ میں کسی بھی طرح شریک نہیں ہے اور اس تنازعے کو بہانہ بنا کر ان کے ملک پر حملہ نہ کیا جائے۔کنعانی نے مزید کہا کہ ایران پر حملہ کرنے کے کسی بھی احمقانہ عمل کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے یہ بیان انہی شکوک وشبہات کے تناظر میں دیا کہ حماس کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔واضح رہے کہ ہفتہ چھ اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے بعد ایرانی حکام نے ان پرتشدد کارروائیوں کو اسرائیلی قبضے کے خلاف جائز دفاعی ایکشن قرار دیا تھا۔ کنعانی نے بھی حماس کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اس تحریک کی مسلح مزاحمت میں ایک نیا موڑ ثابت ہو گا۔
اسرائیل اور حماس کے جنگجوؤں کے مابین جنگ میں شدت کے بعد ایران نے بھی کہا ہے کہ اس لڑائی کو روکنے کی خاطر عالمی طاقتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کنعانی نے اس تناظر میں زور دیا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے۔ادھر عرب لیگ کے رہنما بھی اس نئی کشیدگی کے خاتمے کی کوشش میں ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ صرف دہشت گردی کیخلاف جنگ سے ہی اسرائیل میں قیام امن ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام امن کا سب سے زیادہ پائیدار طریقہ فلسطینی اسرائیلی تنازعے کا دو ریاستی حل ہی ہے۔عرب لیگ کے سربراہ احمد ابو الغیط سے ماسکو میں ملاقات کے دوران لاوروف نے حماس کے جنگجوؤں کی طرف سے اسرائیل پر حملوں کی مذمت بھی کی۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ وہ ایسے حلقوں کی رائے سے متفق نہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا واحد راستہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی ہے۔
اسرائیل پر حملے میں ملوث نہیں، اپنی ناکامی کا ٹھیکرا ہمارے سر نہ پھوڑے: ایران
تہران، 10اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی سے اسرائیلی بستیوں میں گھس کر ہفتے کی صبح فلسطینی دھڑوں کی طرف سے کیے گئے ڈرمائی حملے کی تیاری میں ایران کی مبینہ معاونت سے متعلق اطلاعات سامنے آنے کے بعد تہران نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے طوفان الاقصیٰ حملے میں تہران کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا اس کارروائی میں کوئی کردار نہیں۔قبل ازیں فلسطینی دھڑوں کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ایران نے اسرائیل پر فلسطینی عسکریت پسندوں کے حملوں میں معاونت کی تھی۔کل اتوار کی شام ایک بیان میں ایرانی سفارت کارنے کہا کہ فلسطینیوں کی طرف سے اٹھائے گئے ٹھوس اقدامات سات دہائیوں کے جابرانہ اسرائیلی قبضے اور ناجائز صیہونی حکومت کے گھناؤنے جرائم کے مقابلے میں ایک مکمل طور پر آئینی دفاع کا حصہ ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران غیر متزلزل طور پر فلسطینی قوم کے نصب العین کی حمایت جاری رکھے گا لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
ایرانی سفارت کار نے کہا کہ حماس کے آپریشن کی کامیابی حیرت انگیز ہے جس نے اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی سب سے بڑی ناکامی کا ثبوت پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اپنی ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران پر الزام عاید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل اپنی شرمناک رسوائی اور شکست پر پردہ ڈالنے کے لیے ایرانی انٹیلی جنس اداروں کو اس کارروائی پر مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کررہا ہے۔خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تل ابیب کو فلسطینی مزاحمتی گروپ کے ہاتھوں ان کی شکست کے بارے میں انٹیلی جنس سروسز میں جو رپورٹ دی جا رہی ہے اسے قبول کرنا بہت مشکل ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایران نے حماس اور اسلامی جہاد کی مالی اور عسکری امداد کو کبھی نہیں چھپاپا۔ تہران اعلانیہ فلسطینی عسکری گروپوں کی حمایت اور سرپرستی کرتا رہا ہے۔ہفتے کے روز اسرائیل کو اس وقت تاریخ کے مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑا جب حیرت انگیز طور پر حماس نے ڈرمائی انداز میں ہزاروں راکٹوں کے ساتھ اسرائیلی بستیوں پر حملہ کردیا۔ اس حملے میں اب تک سات سو سے زاید اسرائیلی ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج کی غزہ پر شدید بمباری میں چار سو سے زاید فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ فلسطینیوں نے ایک سو سے زاید اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔



