امریکہ کے اہم اتحادی اردن میں فلسطین کی حمایت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیوں؟
غزہ کے ایک اسپتال پر بمباری پر اردن کی سڑکوں پر جمعرات کو مشتعل مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔
لندن،20اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) غزہ کے ایک اسپتال پر بمباری پر اردن کی سڑکوں پر جمعرات کو مشتعل مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ اردن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے جہاں فلسطینی نژاد لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد مقیم ہے اور جہاں امریکی صدر جو بائیڈن کے رواں ہفتے کے دورے کے دوران عرب ممالک کے ساتھ ایک اجلاس بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اور عرب راہنماؤں کے درمیان اجلاس غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد کی ترسیل کی ایک راہداری کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دے سکتا تھا۔امریکہ کی اپلاچن یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ایک ماہر کرٹس راین نے وی او اے کو بتایا کہ غزہ کے اھلی عرب اسپتال میں دھماکے کے بعد،جس میں سینکڑوں لوگ مارے گئے، اردن میں تین دن کے عوامی سوگ کے اعلان اور بڑے پیمانے پر جنم لینے والے مظاہروں کے باعث امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ایک سر براہی اجلاس کا انعقاد مشکل ہو گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ سر براہی اجلاس نہیں ہواکیوں کہ اس وقت ایک ہنگامی صورتحال ہے۔
اس اجلاس میں مصر، اردن، امریکہ اور فلسطینی اتھارٹی نہ صرف انسانی ہمدردی کی امداد کی ترسیل کی کسی گزر گاہ کی تشکیل کے لییکے اکٹھے ہوتے بلکہ بائیڈن کودوسرے تین فریقوں اور خاص طور پر اردن کی جانب سے جو پیغا م ملتا وہ ہوتا’’ جنگ بندی‘‘۔اردن کی بلوہ پولیس نے بدھ کو دار الحکومت عمان میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب، ہزاروں مظاہرین کو پیچھے دھکیلا جہاں پولیس کے متعدد اہلکار قریبی املاک کو آگ لگانے والے لوگوں کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے نعرے لگائے۔ بر ہم اردنی شہریوں کے بڑے پیمانے کے مظاہرے ملک بھر میں جاری رہے۔انہوں نے کہا کہ‘‘ ہر ایک کو فلسطین کے مسئلے کی پرواہ ہے۔ یہ کسی دوسرے مسئلے کے برعکس اردن کی سیاست کو متحرک کرنے والا ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ فلسطینی شہریوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے، ہر ایک اس پر کام کر رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم اتنے بڑے پیمانے کے مظاہرے دیکھ رہے ہیں۔
اگر کوئی (اسرائیلی) زمینی حملہ واقعی ہوا تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔راین اور دوسرے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسپتال کے دھماکے سے قطع نظر بھی، جس کی زمہ داری سے اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند وں دونوں نے انکار کیا ہے، اردنی باشندے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت اور یہودی آباد کاروں کے سلوک اور غزہ پر اسرائیل کی شدید بمباری پر سخت برہم ہیں۔واشنگٹن کے بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو بروس ریڈل نے وی او اے کوبتایا کہ اسرائیل کے ساتھ اردن کا 1994 کا امن معاہدہ غیر مقبول ہے۔اگرچہ سلطنت کی کچھ سیاسی جماعتوں نے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم شاہ عبداللہ نے ان مطالبوں کو مسترد کر دیا ہے اور اسرائیلی۔ فلسطینی بحران کے دو ریاستی حل پر زور دینا اور کام کرنا جاری رکھا ہے۔انہوں نے کہاکہ لیکن یہ بحران اپنے دائرے اور شدت کے اعتبار سے اتنی غیر معمولی شکل اختیار کررہا ہے کہ شا ہ کے لیے اسرائیل کے ساتھ ارد ن کے تعلقات میں تبدیلی کے مطالبوں پر توجہ نہ دینا مشکل ہو جائے گا۔



