میری بیٹی خود کو غزہ میں ملکہ سمجھتی تھی، حماس کی قید سے رہا اسرائیلی خاتون کا خط وائرل
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کی جانب سے رہا کی گئی اسرائیلی خاتون دنیال اور ان کی بیٹی ایمیلیا کا خط سامنے آگیا۔
مقبوضہ بیت المقدس،28نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کی جانب سے رہا کی گئی اسرائیلی خاتون دنیال اور ان کی بیٹی ایمیلیا کا خط سامنے آگیا۔مغربی طاقتوں کی ایما پر اسرائیل نے محصور غزہ پر بمباری کی اور یہ فضائی، بری اور بحری حملے 44 روز سے زائد جاری رہے۔اسرائیلی حملوں میں 14 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں بچوں اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔کئی روز کی بمباری کے بعد 3 روز قبل اسرائیل نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور آج اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا آخری روز تھا لیکن عارضی جنگ بندی میں مزید 2 دن کی توسیع کردی گئی ہے۔اس دوران حماس نے اب تک 39 اسرائیلی شہریوں سمیت 58 یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے 117 قیدی فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کیا گیا۔حماس کی جانب سے رہا کی گئی اسرائیلی ماں بیٹی کا شکریہ کا خط سامنے آیا ہے جس میں اسرائیلی یرغمالی خاتون دنیال نے دوران قید القسام بریگیڈز کے جنگجوؤں کے حسن سلوک کی تعریف کی ہے۔
عبرانی زبان میں تحریر خط میں خاتون نے لکھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے، لیکن میں آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے میری بیٹی کے ساتھ حسن سلوک اور محبت کا مظاہرہ کیا۔اسرائیلی قیدی خاتون نے حماس کے لیے لکھا کہ آپ نے اس سے والدین کی طرح سلوک کیا، اسے اپنے کمروں میں بلاتے اور اسے یہ احساس دلایا کہ آپ سب اس کے صرف دوست نہیں بلکہ محبت کرنے والے بھی ہیں، آپ کی شکر گزار ہوں اس سب کیلئے جب آپ گھنٹوں ہماری دیکھ بھال کرتے۔خط کے متن کے مطابق صبر کرنے اور ساتھ ساتھ مٹھائیوں، پھلوں اور جو کچھ بھی میسر تھا اس سے ہمیں نوازنے کیلئے شکریہ، بھل وہ دستیاب نہ بھی ہوں، بچے قید میں رہنا پسند نہیں کرتے لیکن آپ اور دوسرے ملنے والے اچھے لوگوں کا شکریہ۔



