غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے چین کا تین نکاتی فارمولہ کیا ہے؟
بیجنگ کے بعد غزہ حکومت میں حماس کی شمولیت کے بیجنگ معاہدہ پر اسرائیل کی تنقید
دبئی ، 24جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکہ کے بعد چین نے بھی غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک تین نکاتی پلان پیش کیا ہے۔چین کی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ بیجنگ نے غزہ کے تنازعے کے حوالے سے تین نکاتی اقدام فلسطینی دھڑوں کے سامنے پیش کیا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیجنگ اعلامیہ میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے فریم ورک کے اندر تمام دھڑوں کے اتحاد کا معاہدہ بھی شامل ہے۔یہ بات چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے چینی دارالحکومت میں دھڑوں کی طرف سے بیجنگ اعلامیہ پر دستخط کے بعد سامنے آئی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ اعلامیے میں غزہ میں جنگ کے بعد حکومت کے حوالے سے حماس اور فتح کے درمیان ایک اہم نکتے پر اتفاق ہوا ہے۔
اس نکتے کے تحت غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظام پر عبوری قومی مفاہمتی حکومت کی تشکیل کا معاہدہ شامل ہے۔چائنہ سنٹرل ٹیلی وژن کے مطابق فلسطینی دھڑوں نے 21 سے 23 جولائی تک چینی دارالحکومت میں ملاقات کی اور ایک مصالحتی ڈائیلاگ منعقد کیا۔ٹیلی ویژن نے تصدیق کی کہ دونوں تحریکوں نے مفاہمتی بات چیت کے حوالے سے ”بیجنگ اعلامیہ” پر دستخط کیے ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ فلسطینی تحریک فتح اور حماس کے رہنما چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی موجودگی میں منگل کو بیجنگ میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اجلاس میں کل 14 فلسطینی دھڑے شرکت کریں گے۔
دوسری طرف تحریک فتح کے ترجمان اور موبلائزیشن کمیشن کے اہلکار عبدالفتاح دولہ نے وضاحت کی کہ تحریک دراصل فلسطین کی تاریخ میں تقسیم کا سیاہ صفحہ پلٹنا چاہتی ہے۔ بات چیت میں مزید کہا کہ فلسطین کی تقسیم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ؛لیکن دھڑے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب ترجیح یہ ہے کہ غزہ میں جنگ کو روکا جائے اور پھر اگلے دن اس پر بات کی جائے۔
بیجنگ کے بعد غزہ حکومت میں حماس کی شمولیت کے بیجنگ معاہدہ پر اسرائیل کی تنقید
مقبوضہ بیت المقدس ، 24جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل نے بیجنگ میں چین کی ثالثی میں منگل کو طے پانے والے اس معاہدے کی فوری طور پر مذمت کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کی قومی مصالحتی حکومت میں حماس کو شریک کیا جائے گا۔یہ سفارتی تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل غزہ اور جنوبی شہر خان یونس کو، جہاں اس نے مقامی آبادی کو جزوی انخلا کا حکم دیا تھا، اپنے حملوں کا ہدف بنا رہا ہے۔اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز نے حماس کو کچلنے کے حکومتی عزم کو دہراتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس پر، جن کے الفتح دھڑے نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جنگ کا سبب بننے والے 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث گروپ کو گلے لگانے کا الزام لگایا۔
جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ پر حکمرانی میں حماس کی شمولیت اسرائیل اور امریکہ کو کسی بھی طرح قبول نہیں ہو گی۔اسرائیلی وزیراعظم ان دنوں واشنگٹن کے دورے پر ہیں جہاں وہ بدھ کے روز امریکی کانگریس سے خطاب کرنے والے ہیں۔ وہ متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ حماس کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ واشنگٹن اندرونی طور پر ہونے والے کسی بھی فلسطینی اتفاق رائے کے خلاف ہے، جس میں ہمارے لوگوں کے خلاف جرائم میں ملوث گروپ شراکت دار ہو۔حماس کے سیاسی بیورو کے ایک رکن حسین بدران نے چین کی شرکت کو امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کا ایک طریقہ قرار دیا ہے۔فلسطینی دھڑوں میں مصالحت کے لیے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے حماس کے سینئر عہدے دار موسیٰ ابو مرروق، الفتح کے ایلچی محمود العلول اور دیگر 12 دھڑوں کے نمائندوں کی میزبانی کی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے منگل کو حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے درمیان غزہ میں قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کے لیے مصالحت کے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا۔
گوتریس کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ میرے خیال میں اتحاد کی جانب تمام اقدامات کا خیرمقدم اور حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ، گوتریس فلسطینی دھڑوں کی طرف سے بیجنگ اعلامیہ پر دستخط کا بہت خیرمقدم کرتے ہیں۔حماس اور الفتح حریف فلسطینی دھڑے ہیں جن کے درمیان 2007 میں مختصر جنگ بھی ہو چکی ہے جس میں حماس نے غزہ پر قبضہ کر لیا تھا۔بیجنگ میں طے پانے والے معاہدے میں فلسطینی دھڑوں کے تحت ایک عارضی قومی حکومت کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جو تمام فلسطینی علاقوں پر اپنا اختیار استعمال کرے گی۔اس سے قبل پچھلے سال چین نے خطے کے دو بڑے حریفوں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں بھی ثالثی کی تھی۔



