بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ معاہدے کو ملتوی کرنے کا کوئی عذر نہیں رہا: بائیڈن کا نیتن یاہو کو پیغام

غزہ معاہدے کو ملتوی کرنے کا اب کوئی بہانہ نہیں

مقبوضہ بیت المقدس، 9اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی اخبار’’یدیعوت احرونوت‘ نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو آگاہ کیا ہے کہ غزہ معاہدے کو ملتوی کرنے کا اب کوئی بہانہ نہیں ہے۔ مصر، قطر اور امریکہ کے بیان کے بعد غزہ میں زیر حراست افراد کے اہل خانہ نے اسرائیلی رہنماؤں اور نیتن یاہو سے معاہدہ مکمل کرنے اور یرغمالی افراد کو واپس لانے کا مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔اسرائیل نے 15 اگست کو ثالثی کرنے والے ممالک قطر، مصر اور امریکہ کی درخواست پر غزہ کی پٹی میں جنگ بندی پر دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ رضامندی کا یہ اعلان یاہو کے دفتر نے جمعرات کو کیا۔حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی پٹی میں شہری دفاع نے جمعرات کو بتایا کہ دوا سکولوں پر اسرائیلی بمباری میں کم از کم 18 افراد مارے گئے ہیں۔

سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک 39699 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے۔ ایران نے اسرائیل پر مشرق وسطیٰ میں جنگ کو بڑھانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔ایران کی جانب سے تہران میں 31 جولائی کو حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ کے قتل کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے جس کے بعد خطے میں فوجی کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام اطراف میں سفارتی کوششیں کی جارہی ہیں اور کشیدگی کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا جا رہا ہے۔جمعرات کو امریکہ، قطر اور مصر کے رہنماؤں نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر اختلافات کو دور کرنے کے لیے اگلے ہفتے دوحہ یا قاہرہ میں مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔ ایک مشترکہ بیان میں ثالثوں نے تنازع کے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ 15 اگست کو مذاکرات دوبارہ شروع کریں تاکہ باقی رہ جانے والے خلا کو پُر کیا جا سکے اور بغیر کسی تاخیر کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہوسکے۔

امیر قطر اور امریکی و مصری صدور کے دستخط شدہ متن میں کہا گیا ہے کہ فریم ورک معاہدہ اب میز پر ہے اور اس پر عمل درآمد کی تفصیلات کو حتمی شکل دینا باقی رہ گیا ہے۔ ہم ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ اگر ضروری ہو تو عمل درآمد سے متعلق باقی معاملات کو طے کرنے کے لیے حتمی تجویز بھی پیش کی جا سکتی ہے۔بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ معاہدہ اگلی جمعرات کو ہی دستخط کے لیے تیار ہو جائے گا۔ ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ کئی مہینوں سے قطر مصر اور امریکہ کی حمایت سے پردے کے پیچھے مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ مذاکرات غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

جنگ کا متوقع خاتمہ ایک عبوری معاہدے کے گرد گھومتا ہے جو ابتدائی جنگ بندی سے شروع ہوتا ہے۔ حالیہ مذاکرات میں مئی کے آخر میں امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے پیش کردہ فریم ورک پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس فریم ورک کو بائیڈن نے اسرائیلی تجویز کے طور پر بیان کیا تھا۔ تازہ ترین فریم ورک معاہدہ صدر بائیڈن کے پیش کردہ اصولوں پر مبنی ہے۔تینوں رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کرنے اور یرغمالیوں اور زیر حراست افراد کو رہا کرنے کا وقت ہے۔ مزید وقت ضائع نہیں کیا جانا چاہئے۔ کسی بھی فریق کی طرف سے مزید التوا کا کوئی بہانہ سامنے نہیں آنا چاہیے۔

31 جولائی کوھنیہ کے قتل کے بعد 6 اگست کو حماس نے یحییٰ سنوار کو اپنے سیاسی بیورو کا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ نومبر میں ایک ہفتہ قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک نئے جنگ بندی اور تبادلے کے معاہدے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔غزہ میں شہری دفاع کے اہلکار محمد المغیر نے ایجنسی فرانس پریس کو بتایا کہ شمالی پٹی کے غزہ شہر میں عبدالفتاح حمود اور الزہرا کے اسکولوں پر اسرائیلی بمباری سے 18 سے زیادہ شہری جاں بحق، 40 لاپتہ اور 60 زخمی ہوئے ہیں۔تہران میں اسماعیل ھنیہ کو قتل کیے جانے کے بعد ایران اور اس کی اتحادی حزب اللہ نے دونوں کارروائیوں کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button