غزہ جنگ 12ویں مہینے میں داخل اسرائیلی حکومت کا فلسطین میں کارروائی جاری رکھنے کا اعلان
اسرائیل اور اردن میں 1994 میں امن معاہدہ ہوا تھا
مقبوضہ بیت المقدس،۹؍ستمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بن یامین نیتن یاہو نے غزہ میں جاری کارروائی جاری رکھنے کا عزم ایسے موقع پر ظاہر کیا ہے جب اس جنگ کو اب 12 ماہ ہونے والے ہیں۔اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ہلاکت خیز نظریہ رکھنے والوں سے گھرا ہوا ہے۔ ان کے بقول ان سب برائیوں کی پشت پناہی ایران کر رہا ہے۔بن یامین نتین یاہو نے اعلیٰ سرکاری حکام کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت میں خیالات کا اظہار کیا۔اس اجلاس میں اردن اور مغربی کنارے کے درمیان واقع پل ‘الینبی برج’ پر مسلح شخص کے حملے میں تین اسرائیلیوں کی ہلاکت کی بھی مذمت کی گئی۔اسرائیلی حکام کے مطابق حملہ آور اردن سے ایک ٹرک میں آیا تھا۔ اس نے پل پر اسرائیلی سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا۔
جوابی کارروائی میں حملہ آور مارا گیا۔ بعد ازاں فوجی ترجمان نے بتایا کہ ہلاک ہونے تین اسرائیلی عام شہری تھے۔اردن کے حکام نے کہا ہے کہ 39 سالہ حملہ آور کا نام ماہر الجزی تھا جو ٹرک کے ذریعے کھانے پینے کی اشیا مغربی کنارے لے کر جاتا تھا۔ وہ اردن کی فوج میں بھی خدمات انجام دے چکا تھا۔ حکام نے اس کے حملے کو ذاتی فعل قرار دیا ہے۔اسرائیل اور اردن میں 1994 میں امن معاہدہ ہوا تھا جب کہ دونوں ممالک میں انتہائی قریبی سیکیورٹی روابط ہیں۔اردن کے راستے مغربی کنارے اور اسرائیل میں روزانہ سینکڑوں ٹرک کھانے پینے کی اشیا اور دیگر مصنوعات لے کر داخل ہوتے ہیں۔
یہ اشیا اردن اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک سے لائی جاتی ہیں۔اتوار کو اسرائیل کے حملوں میں غزہ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جن میں حماس کے زیرِ انتظام محکمہ شہری دفاع کا ایک سینئر اہلکار بھی شامل تھا۔ دیگر ہلاک ہونے والوں میں دو بچے اور دو خواتین شامل تھے۔غزہ میں اسرائیل نے حماس کے خلاف جنگ کا اعلان گزشتہ برس اکتوبر میں اس وقت کیا تھا جب سات اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر دہشت گرد حملہ کیا تھا۔ زمین، فضا اور بحری راستے سے کیے گئے اس غیر متوقع حملے میں اسرائیلی حکام کے مطابق لگ بھگ 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حماس نے حملے میں ڈھائی سو افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان یرغمالوں سے سو سے زائد یرغمالوں کو نومبر 2023 میں ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے دوران رہا کر دیا گیا تھا جب کہ لگ بھگ سو یرغمالی اب بھی حماس کی تحویل میں ہیں۔ اسرائیلی فورسز کے مطابق ان میں بھی ایک تہائی یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فورسز کی بمباری اور زمینی کارروائی میں حماس کے زیرِ انتظام محکمہ صحت کے مطابق 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ لگ بھگ 95 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔



