
بین الاقوامی خبریں
برطانیہ کی روس کیخلاف نئی پابندیاں عائد: لگژری اشیا ،اسٹیل اور لوہے کی مصنوعات ہدف
برطانیہ کی روس کیخلاف نئی پابندیاں عائد: لگژری اشیا ،اسٹیل اور لوہے کی مصنوعات ہدف
لندن،16مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانیہ نے سیکڑوں روسی افراد اور اداروں پر پابندیاں عاید کردیں اوریورپی یونین اورامریکا کے ساتھ مل کر صدرولادیمیر پوتین کی حمایت کے الزام میں لوگوں کونشانہ بنانے کے لیے ایک نئے قانون کا استعمال کیا ہے۔ برطانیہ، یورپی یونین اورامریکا کوامید ہے کہ یہ پابندیاں روسی صدرکو یوکرین پرحملے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں گی۔
برطانوی حکومت کے اقتصادی جرائم بل کی قانونی سازی کے بعد فوری طور پرعائد کردہ پابندیوں میں صدر پوتین کے قریبی افراد مثلاً سابق صدردمتری میدویدیف، وزیردفاع سرگئی شوئیگو اور روسی ٹیلی ویژن کے ایگزیکٹو قنسطنطین ارنسٹ کو ہدف بنایا گیا ہے۔روسی تاجروں میخائل فریڈمین اور پیوٹرایون، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف اور وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروفا کے خلاف بھی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔
برطانیہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے اس نئے دور میں 100 ارب پاؤنڈ (130.63 ارب ڈالر) دولت کی حامل اشرافیہ پر قدغنیں عاید کی گئی ہیں۔برطانوی وزیرخارجہ لیزٹرس نے کہا ہے کہ ہم یوکرین میں روس کے جرائم میں ان افراد کی ملی بھگت پران کا مواخذہ کررہے ہیں اور صدرپوتین کے مقربین یعنی بڑے اشرافیہ سے لے کران کے وزیراعظم اوران کے جھوٹ اور غلط معلومات پھیلانے والے پروپیگنڈے بازوں کو نشانہ بنانے میں پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر روسی صدر پر دباؤ بڑھاتے رہیں گے اور روس کی جنگی مشین کے لیے رقوم کی ترسیل کے دروازے بند کردیں گے۔انھوں نے بتایا کہ برطانیہ نے 370 سے زیادہ نئی پابندیاں عاید کی ہیں اور 24 فروری کو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے مجموعی طور پریہ تعداد 1000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اس سے قبل برطانیہ نے کہا تھا کہ وہ روس کولگژری اشیا کی برآمد پرپابندی عاید کردے گا اور 90 کروڑ پاؤنڈ (1.2 ارب ڈالر) مالیت کی روسی درآمدات پر35 فی صد نیا ٹیرف عاید کرے گا جس میں ووڈکا، دھاتیں، کھاد اور دیگر اجناس شامل ہیں۔
وزیرخزانہ رِشی سَنک نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے نئے محصولات روسی معیشت کو عالمی تجارت سے مزید الگ تھلگ کردیں گے اوراس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اسے قواعدوضوابط پرمبنی ایسے بین الاقوامی نظام سے کوئی فائدہ نہ ہو جس کا وہ احترام ہی نہیں کرتا ہے۔
روس کا یہ مؤقف ہے کہ وہ یوکرین کوغیر مسلح کرنے اور اسے نازی ازم سے پاک کرنے کے لیے ایک ’’خصوصی آپریشن‘‘کررہا ہے جسے کیف اور اس کے اتحادی چار کروڑ چالیس لاکھ نفوس پرمشتمل جمہوری ملک پر حملے کا بے بنیاد بہانہ قرار دیتے ہیں۔
شمالی کوریا کا نیا میزائل تجربہ غالباً ناکام رہا:جنوبی کوریا
سیول،16مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک اور نامعلوم قسم کا میزائل لانچ کرنے کی کوشش کی، تاہم لگتا ہے کہ وہ ناکام رہا۔ پیونگ یانگ رواں برس میں غیر معمولی رفتار سے میزائلوں کا تجربہ کر رہا ہے۔جاپان کی وزارت دفاع نے 16 مارچ بدھ کی صبح شمالی کوریا کی جانب سے ایک مشتبہ میزائل لانچ کی اطلاع دی، تاہم جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے اس پر اپنے فوری رد عمل میں واضح کیا کہ اس کے خیال میں یہ تجربہ شاید ناکام ہو گیا۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) نے ایک بیان میں کہا کہ شمالی کوریا نے آج صبح ساڑھے نو بجے کے قریب سونان کے علاقے سے ایک نامعلوم پروجیکٹائل فائر کیا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ لانچنگ کے فوراً بعد ہی ناکام ہو گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے تجزیہ کار اس کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔
جاپانی کابینہ کے چیف سیکرٹری ہیروکازو ماتسونو نے صحافیوں کو بتایا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ تجربے کے طور پر بیلیسٹک میزائل فائر کرنے کی کوشش کی گئی تھی یا نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ اسے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ کے باہر ایک ہوائی اڈے سے لانچ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ رواں برس اب تک اس مقام سے اس طرح کے کئی ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
شمالی کوریا اس سال اب تک 9 پروجیکٹائل لانچ کر چکا ہے اور بدھ کی یہ کوشش دسویں ہو گی۔ آخری بار اس نے پانچ مارچ کو ایک کامیاب تجربہ کیا تھا۔امریکہ اور جنوبی کوریا کے مطابق اسی مقام سے کیے گئے دو حالیہ تجربات ایک نئے بین البراعظمی قسم کے بیلیسٹک میزائل کے تھے۔ اس کی جانب سے بیلیسٹک میزائلوں کا تجربہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔
شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کے یہ تجربات ایک جاسوس سیٹ لائٹ کے اجزا تیار کرنے کے لیے تھے۔واشنگٹن اور سیول نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ پیونگ یانگ اپنی جوہری ٹیسٹ سائٹ پر بند پڑی کچھ سرنگیں بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شمالی کوریا اب تک کل چھ مرتبہ جوہری تجربات کر چکا ہے تاہم سن 2017 کے بعد سے اب تک کوئی تجربہ نہیں کیا ہے۔
لیکن شمالی کوریا نے یہ دھمکی بھی دے رکھی ہے کہ چونکہ جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونے سے متعلق بات چیت رک گئی ہے، اس لیے جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر اس نے جو بذات خود اپنے اوپر پابندی عائد کر رکھی ہے، اسے وہ جلدی ہی ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکہ کی طرف سے روسی ملٹری سربراہوں پر نئی پابندیاں
نیویارک ،16مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ نے روسی فوجی سربراہوں اور ایسے افراد کے خلاف منگل کو نئی پابندیاں عائد کی ہیں جن پر امریکا کا الزام ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار ہیں۔ ساتھ ہی ماسکو کے قریبی حلیف بیلاروسی صدر الیکسانڈر لوکاشینکو اور ان کی اہلیہ کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے روسی نیشنل گارڈ کے سبراہ، نائب وزیر دفاع اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی سکیورٹی کونسل کے ایک رکن پر یہ نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر افراد کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
خا رکیف میں کم از کم 500 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں: ایمرجنسی سروس
یوکرین کے مشرقی علاقے خارکیف کی ہنگامی صورتحال سے نمنٹنے والے ادارے کی طرف سے آج بدھ کو بتایا گیا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے آغاز سے اب تک خارکیف شہر کے 500 سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں۔ روس نے یوکرین پر 24 فروری کو حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے ملک کے مختلف علاقوں میں بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔
روس کا موقف ہے کہ وہ شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنا رہا۔ یوکرین کے مستغیث اعلیٰ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے اب تک 103 یوکرینی بچے مارے جا چکے ہیں جبکہ روسی فورسز اب تک 400 سے زائد تعلیمی اداروں کو بمباری کا نشانہ بنا چکی ہے۔
شاہِ بحرین اورروسی صدرپوتین کا یوکرین تنازع کے حل پرتبادلہ خیال
دبئی،16مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بحرین کے شاہ حمدبن عیسیٰ آل خلیفہ اور روسی صدر ولادی میرپوتین نے یوکرین میں تنازع کے تصفیے کے سفارتی حل کی اہمیت پرتبادلہ خیال کیا ہے۔ بحرین کے سرکاری خبررساں ادارے (بی این اے) نے منگل کے روزخبردی ہے کہ شاہ حمد اور صدر پوتین نے فون کال میں یوکرین میں ہونے والی پیشرفت پرتبادلہ خیال کیا ہے اور مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے بات چیت کی اہمیت پر زوردیا ہے۔
انھوں نے عالمی برادری کی جانب سے پائیدار اورجامع امن کے حصول اور تمام فریقوں کے مفادات اور قومی سلامتی کی ضامن مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر بھی زوردیاہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بحرین کے بادشاہ نے یوکرین میں شہریوں کو انسانی امداد مہیاکرنے کی اہمیت کا اعادہ کیا اور دنیا کے ممالک پر زوردیا کہ انھیں انسانی یکجہتی کے اصولوں کی بنیاد پراقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کردہ انسانی امدادی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے اپنے فرائض پورے کرنے چاہیے ۔
سعودی عرب: بالمشافہہ تدریس دوبارہ شروع کرنے کا اعلان،سماجی فاصلہ کے ضوابط ختم
ریاض ،16مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی عرب کی وزارتِ تعلیم نے پبلک ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے کووِڈ-19 کے نئے پروٹوکول کے نفاذ کے بعد ہر سطح اور ہرعمرکے طلبہ وطالبات کے لیے بالمشافہہ تدریس دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے اطلاع دی ہے کہ نئی ہدایات میں جماعت کے کمروں اور گروپ کی دعاؤں، صبح کی اسمبلی اورغیر نصابی سرگرمیوں کے دوران میں طلبہ کے درمیان سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے مینڈیٹ کو یاد کیا گیا ہے۔تازہ قواعد 20 مارچ سے نافذ العمل ہوں گے۔ ایس پی اے کے مطابق 12 سال سے زیادہ عمر کے طلبہ کو اب بھی مکمل طور پرویکسین لگوانا ضروری ہے۔
وزارت تعلیم نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ تمام تعلیمی اداروں کو وزارت صحت کی منظورکردہ احتیاطی تدابیرپر عمل کرنا ہوگا۔سعودی گزٹ نے وزیر صحت فہدبن عبدالرحمٰن الجلاجل کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ مملکت میں کووڈ-19 کے مقابلے میں ویکسین لگانے کی شرح 12 سال سے زائدعمر کے افراد میں 99 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ ہفتوں میں کووِڈ-19 کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عاید کردہ بیشتر پابندیاں ختم کردی ہیں۔ان میں گھر سے باہر لازمی ماسک پہننے کی پابندی بھی شامل ہے۔
روسی حملہ عالمی معیشت کیلئے تباہ کن،مہنگائی بڑھے گی: آئی ایم ایف
نیویارک،16مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) عالمی مالیاتی ادارے آ ئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ روس یوکرین کی جنگ دنیا کی معشیت اور سیاست کو ادھیڑ کر رکھ سکتی ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو آئی ایم ایف کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ روس کے حملے کے اثرات دنیا کی معیشت پر ترقی کی رفتار میں کمی، مہنگائی میں اضافے کی شکل میں سامنے آنے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کو لمبے عرصے کے لیے ایک نئے سانچے میں ڈھال سکتی ہے۔
آ ئی ایم ایف کی جانب سے ایک ویب سائٹ پر کی گئی پوسٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کی لہر اور دوسرے انسانی مسائل کے علاوہ اس جنگ سے افراط زر بڑھے گی، خوراک اور توانائی کی اشیا مہنگی جبکہ آمدنی کی قدر ہو گی۔صورت حال کے اثرات کاروبار میں خلل، سپلائی چینز کی بندش اور یوکرین کے ہمسایہ ممالک میں ترسیلات کی کمی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
بیان کے مطابق ’تجارت اور کاروبار بری طرح متاثر ہوں گے، سرمایہ کاروں میں غیریقینی بڑھے گی، جس سے اثاثوں کی قیمتیں گر جائیں گی۔ مالی حالات تنگی کی طرف جائیں گے اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس سے سرمائے کا اخراج ہو سکتا ہے۔تصادم عالمی معیشت کے لیے ایک زوردار دھچکا ہے جس سے پیداواری شعبہ متاثر ہو گا اور نرخ بڑھیں گے۔
آئی ایم ایف کے حکام پہلے ہی 2022 میں عالمی اقتصادی کے حوالے سے اس کی چار اعشاریہ چار فیصد کی پیشن گوئی میں کمی کا امکان ظاہر کر چکے ہیں۔منگل کو کی جانے والی پوسٹ میں علاقائی اقتصادی ترقی میں بھی کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
روس کے سرکاری ٹی وی پر احتجاج کرنے والی صحافی کو 280 ڈالر جرمانہ
ماسکو؍لندن ،16مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوکرین پر ماسکو کے فوجی حملے کے خلاف سرکاری ٹی وی کے پرائم ٹائم نیوز بلیٹن کے دوران احتجاج کرنے والی روسی ایڈیٹر کو عدالت نے جرمانے کے بعد رہا کر دیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو ماسکو کی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج نے سرکاری ٹی وی چینل کی ملازمہ مرینہ سیانیکوف کو 280 ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
مرینہ سیانیکوف نے روس کے سرکاری ٹی وی کے اسٹوڈیو میں گھس کر براہ راست نشریات کے دوران جنگ مخالف نعرے لگائے تھے۔یاد رہے کہ ان کے اس احتجاج کی وجہ سے روس کے سرکاری ٹیلی ویڑن اسٹیشن میں افراتفری کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔
مرینہ سیانیکوف نے پوسٹر اٹھا رکھا تھا جس پر انگریزی اور روسی زبان میں ’جنگ نہیں‘ کے الفاظ درج تھے۔پوسٹر پر یہ بھی لکھا تھا کہ جنگ کو روک دو، پروپیگنڈے پر اعتبار مت کرو، یہ یہاں جھوٹ بول رہے ہیں۔ان کے علاوہ ایک جملہ مزید بھی درج تھا، تاہم وہ واضح نہیں تھا۔
احتجاج کا یہ غیرمعمولی واقعہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے 14 روز بعد سامنے آیا ہے۔احتجاج کے دوران بھی نیوزکاسٹر نے اپنا کام جاری رکھا اور ٹیلی پرومپٹر پر نظریں جمائے رکھیں۔واضح رہے کہ روس کا ریاستی ٹی وی لاکھوں روسیوں تک معلومات پہنچانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور یوکرین جنگ کے معاملے پر حکومتی نقطہ نظر کو اپنائے ہوئے ہے کہ کریملن کو مجبوراً یوکرین پر حملہ کرنا پڑا۔
نیٹو کے دفاع کیلئے پختہ عزم: امریکی وزیر دفاع، پوٹن جنگی مجرم ہے: کانگریس
نیویارک،16مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین میں روسی جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا۔ امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کو یوکرین جنگ کا ذمہ دار قرار دیا۔مزید برآں امریکی سینیٹ نے منگل کے روزایک غیر معمولی اتحاد میں پوتین کو جنگی مجرم قرار دینے کی مذمتی کی قرارداد متفقہ طور پرمنظور کی۔
امریکی سینیٹ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے جب دونوں جماعتوں کے ارکان کسی ایک قرارداد پر متفق ہوئے ہیں۔ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی طرف سے پیش کردہ اور دو طرفہ سینیٹرز کی حمایت یافتہ یہ قرارداد ہیگ اور دیگر ممالک میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ یوکرین پر روس کے حملے کے دوران ہونے والے جنگی جرائم کی کسی بھی تحقیقات میں روسی فوج کو نشانہ بنائیں۔
سینیٹ کے اکثریتی رہ نما چک شومر نے ووٹنگ سے قبل خطاب میں کہاکہ ’’ہم سب، ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز اس کمرے میں یہ کہتے ہوئے شامل ہوئے ہیں کہ پوتین یوکرینی عوام کے خلاف ہونے والے مظالم کے احتساب سے نہیں بچ سکتے۔امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ یوکرین میں روسی فوجی آپریشن اور علاقائی سلامتی سے متعلق دیگر امور پر بات چیت کے لیے اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کے لیے برسلز پہنچے ہیں۔
آسٹن نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ واشنگٹن نیٹو کی سرزمین کے دفاع کے لیے پرُ عزم ہے۔دوسری جانب یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا نے منگل کو کہا کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب بلنکن سے فون پر بات کرتے ہوئے روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
کولیبا نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے مزید کہا کہ بلنکن نے یوکرین میں جوہری تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر اتفاق کیا اور ماسکو پر واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے نئے پیکج پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
واشنگٹن مصرکوایف 15جیٹ طیارے دے گا:امریکی جنرل
قاہرہ،16مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مشرق وسطیٰ میں امریکا کی افواج کے اعلیٰ جنرل نے منگل کے روزاس یقین کا اظہار کیاہے کہ مصرکو ایف 15 لڑاکا طیارے مہیا کیے جائیں گے۔ امریکہ کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی نے کانگریس کی سماعت کے دوران میں کہا کہ ’’میرے خیال میں ہمارے پاس اچھی خبر ہے اور ہم انھیں (مصرکو) ایف 15 مہیاکرنے جا رہے ہیں۔یہ ایک طویل اور صبرآزماعرصے کے بعد اقدام ہے۔
جنرل میکنزی نے مصر کو طیارے دینے کے وقت کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی یا بوئنگ کے تیارکردہ کتنے ایف 15 طیارے مہیا کیے جائیں گے۔گذشتہ ماہ میکنزی نے مصر کو’’بہت مضبوط‘‘ فوجی امداد دینے پر زوردیا تھا۔
انھوں نے تب مصرکو دی جانے والی فوجی امداد میں 13کروڑ ڈالر کی کٹوتی کے فیصلے کے تناظرمیں قاہرہ کا دورہ کیا تھا۔صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ نے انسانی حقوق سے متعلق خدشات کے پیش نظر مصرکو دی جانے والی سالانہ امداد میں سے یہ رقم روک لی تھی۔



