بین الاقوامی خبریںسرورق

جنگ کے اصول بدل گئے، حماس 50 سال تک پچھتائے گی: صہیونی وزیر دفاع

اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد 700 سے زیادہ ہو گئی

مقبوضہ بیت المقدس ، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد 700 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ٹائمز آف اسرائیل نے اطلاع دی ہے کہ وزیر دفاع یوو گیلانٹ نے جنوبی اسرائیل کے اوفاکیم قصبے کا دورہ کیا۔ اس قصبہ پر ایک روز قبل فلسطینیوں نے حملہ کیا تھا۔اسرائیلی وزیر دفاع نے اس موقع پر کہا کہ جنگ کے اصول بدل گئے ہیں۔ ہمارا جواب 50 سال تک فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔گیلانٹ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا غزہ کی پٹی میں اسرائیل کا ردعمل اگلے پچاس سالوں تک لوگوں کے ذہنوں میں تازہ رہے گا۔ حماس کو یہ لڑائی شروع کرنے پر پچھتاوا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے اصول بدل چکے ہیں۔ غزہ کی پٹی جو قیمت ادا کرے گی وہ بہت زیادہ ہوگی۔

یہ اس حقیقت کو نسلوں تک کے لیے بدل کر رکھ دے گی۔اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘کے مطابق اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں کم از کم 100 اسرائیلیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی پٹی میں 170 تک اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا جا چکا ہے۔ہفتہ کے روز شروع ہونے والی جنگ کے دو دنوں میں 700 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک اور 2200 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے غزہ کی پٹی کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں اب تک 370 فلسطینی شہید اور 2000 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔


مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کو ہوا دینے سے باز رہیں: شولس

مقبوضہ بیت المقدس، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس کی طرف سے اسرائیل پر حملوں اور اسرائیل کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق وہاں ہلاکتوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر چکی ہے۔ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 370 بتائی گئی ہے۔اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے حملوں کے بعد حالت جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس فیصلے کے بعد دو رس فوجی اقدامات کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔اسی تناظر میں جرمن چانسلر اولاف شولس نے کہا ہے کہاسرائیل کو ‘وحشیانہ حملوں‘ کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کو اپنے شہریوں کے تحفظ اور حملہ آوروں کا پیچھا کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔

جرمن چانسلر کے مطابق وہ مصر، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ یہ حملہ پورے خطے کے لیے ناقابل حساب نتائج کا باعث نہ بنے، اور ہم اس صورتحال میں دہشت گردی کو ہوا دینے اور پھیلانے کے خلاف سب کو متنبہ کرتے ہیں۔دوسری طرف گزشتہ روز سے جاری اس تنازعے میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔اسرائیل کے مختلف میڈیا چینلز کے مطابق حماس کے حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 600 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ تعداد اسرائیلی کی براڈکاسٹر کے علاوہ چینل 12 اور اخبارات ہیرٹز اور ٹائمز آف اسرائیل کی طرف سے بتائی گئی ہے۔

ابھی تک اس تعداد کے حوالے سے تاہم کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ طبی ذرائع کے مطابق دو ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہیں۔ادھر فلسطینی اتھارٹی کی وزارت صحت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ غزہ پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 370 ہو گئی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی طرف سے ہفتہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر ہزاروں راکٹ داغے گئے اور مسلح افراد زمینی، فضائی اور سمندری راستوں سے اسرائیلی علاقوں میں داخل ہوئے۔ جس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے غزہ پٹی کے علاقے میں جوابی کارروائی کی۔

اسرائیل کے مختلف میڈیا چینلز کے مطابق حماس کے حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 600 تک پہنچ چکی ہے۔اسرائیل کے مختلف میڈیا چینلز کے مطابق حماس کے حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 600 تک پہنچ چکی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غور کے لیے اتوار کو ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ یہ اجلاس مالٹا اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اس بحران کے خاتمے کے لیے علاقائی طاقت مصر سے بات کی ہے۔ بلنکن نے مصری وزیر خارجہ سامح شکری سے ملاقات کے بعد اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ امریکہ مصر کی طرف سے قیام امن کی کوششوں کو سراہتا ہے اور حماس کے حملے فوری طور پر روکے جانے پر زور دیتا ہے۔


اسرائیلی فوج کا غزہ میں 15 خاندانوں کا اجتماعی قتل عام

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی طرف سے نہتے فلسطینیوں کا بے دریغ اجتماعی قتل عام جاری ہے۔ صہیونی ریاست کی جنگی مشین نے غزہ کی پٹی میں 15 خاندانوں کے گھروں پر بغیر کسی پیشگی وارننگ کے بمباری کرکے ان کا اجتماعی قتل عام کیا ہے۔ فلسطینی حکوم میں سرکاری میڈیا آفس کے سربراہ سلامہ معروف نے بتایا کہ قابض فوج نے گذشتہ رات غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر اپنے حملے تیز کردیے جس کے نتیجے میں  درجنوں رہائشی عمارتوں، شہریوں کے گھروں، مساجد، سہولیات، ہسپتال، اسکول، اور پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والے سکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔

 سلامہ معروف نے پیر کے روز ایک پریس بیان میں تصدیق کی کہ قابض فوج نے مزاحمتی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کے برعکس گذشتہ گھنٹوں میں 15 خاندانوں کا قتل عام کیا۔ ان کے گھروں پر بغیر کسی پیشگی وارننگ کے بمباری کی گئی جس سے درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ انہوں نے نہتے شہریوں کے خلاف ہونے والے قتل عام کی ذمہ داری قابض دشمن پر عائد دکرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست غزہ کے محصورین کو اجتماعی سزا دینے کا مجرم ہے۔


حماس – اسرائیل جنگ:سابق کمانڈر کو قیدیوں اور لاپتہ افراد کے معاملہ پر رابطہ کار مقرر

مقبوضہ بیت المقدس، 9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے سابق فوجی کمانڈر گال ہرش کو یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے امور کا رابطہ کار مقرر کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک سینئر افسر گال ہرش نے 2006 کی دوسری لبنان جنگ کے دوران اپنے طرز عمل پر ہونے والی تحقیقات کی وجہ سے فوج سے استعفیٰ دے دیا تھا۔گال ہرش اپنے زیرکمان علاقے میں جنگ کے موقع پر دو اسرائیلی فوجیوں کے اغوا کی وجہ سے ا ور جنگ کے دوران اپنے قائدانہ انداز کی وجہ سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنے تھے۔2015 میں انہیں اس وقت کے پولیس کے وزیر گیلاد اردان نے پولیس چیف کے طور پر کام کرنے کے لیے نامزد کیا تھا، لیکن غیر قانونی کاروباری لین دین کے شبہات کی وجہ سے ان کی نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا تھا۔2019 میں گال ہرش نے اپنے ہی پلیٹ فارم پر کنیسٹ کے لیے انتخاب لڑنے کی کوشش کی اور صرف 3,400 ووٹوں سے جیت گئے۔

بعد میں ہرش نے لیکود پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ اکتوبر میں ہرش پر تل ابیب کی مجسٹریٹ عدالت نے جارجیا میں ایک دفاعی کمپنی میں اپنے آپریشنز کے منافع کو کم رپورٹ کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی تھی۔ہرش پر تین دیگر کاروباری شراکت داروں کے ساتھ کمپنی ڈیفنس شیلڈ جارجیا کو ہتھیاروں کی فروخت اور 2007 اور 2009 کے درمیان دیگر ملکوں کو خدمات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ ہرش کے وکلا نے کہا تھا کہ ان کی ٹیکس رپورٹس قانونی اور مکمل تھیں۔سفارتی ذرائع نے آج انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل ان اسرائیلیوں کے معاملہ کے حوالے سے ثالثوں کے ذریعے بات چیت کا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے، جنہیں غزہ کی پٹی میں گزشتہ روز صبح کے وقت شروع ہونے والے اچانک حملے کے بعد فلسطینیوں نے حراست میں لیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button